ٹرمپ حکومت کو جھٹکا، امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے استعفیٰ دے دیا

ٹرمپ حکومت کو جھٹکا، امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے استعفیٰ دے دیا

واشنگٹن: امریکی آرمی سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے، جس کے بعد امریکی محکمہ دفاع میں اعلیٰ سطح پر قیادت کی تبدیلی ایک بار پھر خبروں کا محور بن گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے پیر کو ڈرسکول کے استعفے کی تصدیق کی، تاہم اس کی وجوہات اور استعفے کی منظوری کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ بھی واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور کیا ہے یا نہیں۔ڈین ڈرسکول فروری 2025 سے امریکی آرمی کے سویلین سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ عراق جنگ میں بھی فعال کردار ادا کر چکے ہیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دیرینہ دوست بھی سمجھے جاتے ہیں۔یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ دفاع کو ایک طرف اعلیٰ سطح کی انتظامی تبدیلیوں کا سامنا ہے اور دوسری جانب، امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس تناظر میں، آرمی قیادت میں تبدیلی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈرسکول اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے درمیان کئی ماہ سے اختلافات جاری تھے۔ یہ اختلافات امریکی آرمی کی پالیسی، فوج کی جدید کاری کے منصوبوں، اور اعلیٰ فوجی افسران کی تقرری و تبدیلی سے متعلق تھے۔

ذرائع کے مطابق، ہیگسیتھ نے محکمہ دفاع میں بعض سینئر افسران اور مشیروں کو عہدوں سے ہٹانے اور ترقیوں کے فیصلوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی، جس کی مخالفت ڈرسکول کی جانب سے کی گئی۔ ان تبدیلیوں اور اختلافات کے باعث، آرمی کی پالیسی اور انتظامی امور پر تناؤ بڑھ گیا۔ڈین ڈرسکول کا استعفیٰ، پیٹ ہیگسیتھ کے دور میں ہونے والی دیگر اہم تقرریوں اور رخصتیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان تبدیلیوں سے امریکی محکمہ دفاع میں سویلین نگرانی، انتظامی استحکام اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ابھی ان کا جانشین فوری طور پر مقرر نہیں کیا گیا ہے، لیکن نئے آرمی سیکرٹری کی تقرری اہمیت کی حامل ہوگی، خاص طور پر جب امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔آرمی سیکرٹری فوج کے اعلیٰ ترین سویلین عہدیدار ہوتے ہیں، اور ان کا کردار فوج کی پالیسی، بجٹ، جدید کاری اور طویل مدتی منصوبوں میں مرکزی ہوتا ہے۔ اس لیے، ڈین ڈرسکول کی اچانک رخصتی امریکی فوج کے مستقبل کے فیصلوں کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔