ویب ڈیسک: صوبہ پنجاب مون سون بارشوں کے باعث شدید متاثر ہو رہا ہے، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 63 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ نقصان رپورٹ ہوا، جہاں 15 شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
مجموعی اعداد و شمار:
اب تک کل اموات: 103
کل زخمی: 393
متاثرہ مکانات: 128
ہلاک مویشی: 6
پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق بیشتر اموات بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کی چھتیں گرنے کے باعث ہوئیں۔ حکام نے اسے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی عمارتوں میں رہائش اختیار نہ کریں۔
حکومتی اقدامات:
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ:زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو مالی امداد دی جائے گی۔متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا حکم دیا گیا ہے۔
موجودہ خطرات اور وارننگ:
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ:بارشوں کا سلسلہ آج بھی جاری رہے گا۔ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، محفوظ علاقوں میں منتقل ہونے اور انتہائی ضرورت کے بغیر سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
عوام سے اپیل:
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ:ریسکیو اداروں سے تعاون کریں۔کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً پی ڈی ایم اے یا مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔خستہ حال عمارتوں اور بجلی کی کھلی تاروں سے دور رہیں۔یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے شدید انسانی اور مالی نقصانات کا باعث بن رہی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے جامع اور بروقت حکومتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔