لندن میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارت کو پانچ میچز کی سیریز میں 1-2 کے خسارے کا سامنا ہے۔
ایسے میں سابق بھارتی آل راؤنڈر اور 1983ء کے ورلڈ کپ فاتح مدن لال نے ویرات کوہلی سے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی اپیل کی ہے۔
"ویرات کوہلی کا جذبہ بے مثال تھا" — مدن لال
مدن لال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"ویرات کوہلی کو اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے لینی چاہیے۔ ان کا تجربہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔ میرے خیال میں وہ مزید 1-2 سال آرام سے کھیل سکتے ہیں۔ یہ اچانک ریٹائرمنٹ درست فیصلہ نہیں تھی، پلیز واپس آئیں۔"
ویرات کوہلی کی شاندار ٹیسٹ کارکردگی
کوہلی نے صرف ایک ماہ قبل انگلینڈ سیریز سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ ان کے شاندار کیریئر میں:
9,230 رنز
31 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں
46.85 کی بیٹنگ اوسط
بھارت کے چوتھے سب سے زیادہ رنز بنانے والے ٹیسٹ بلے باز
ان کے جانے کے بعد بھارت کی نمبر 4 پوزیشن پر نمایاں خلا محسوس کیا گیا، جو اب شبمن گل نے جزوی طور پر پُر کیا ہے۔
شبمن گل کی شاندار کارکردگی
شبمن گل نے:
لیڈز میں 147 رنز
ایجبیسٹن میں 269 اور 161 رنز
اب تک 607 رنز بنا کر 101.17 کی اوسط سے سیریز میں سرفہرست پوزیشن سنبھالی۔
تاہم تیسرے ٹیسٹ میں وہ صرف 16 اور 6 رنز بنا سکے، جس کے بعد بھارت 22 رنز سے میچ ہار گیا۔
انگلینڈ کی واپسی اور مائیکل وان کا تبصرہ
سابق انگلش کپتان مائیکل وان کے مطابق:"تیسرے ٹیسٹ کی تیسری شام کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے گیم کو نئی سطح پر لے جایا۔ شبمن گل چوتھی شام میں وہ تسلسل برقرار نہ رکھ سکے جو ان کی پہچان رہا ہے۔"
ویرات کی غیرموجودگی شدت سے محسوس
لندن ٹیسٹ میں بھارت کے ناکام رن چیس اور ویرات کوہلی کی غیرموجودگی نے کئی سابق کرکٹرز اور شائقین کو مایوس کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ویرات کی موجودگی سے نہ صرف بیٹنگ لائن کو تقویت ملتی بلکہ ٹیم کا جذبہ اور قیادت بھی مزید نکھرتی۔
الیکشن بھارتی کرکٹ بورڈ کے لیے؟
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ویرات کوہلی مدن لال اور شائقین کی آواز پر لبیک کہتے ہیں یا اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر قائم رہتے ہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے — بھارت کی موجودہ صورتحال میں ان کی واپسی فیصلہ کن تبدیلی لا سکتی ہے۔