حاجی محمد لطیف کھوکھر
کہتے ہیں غریب کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ سانس لیتا ہے، جیتا ہے، اور بدقسمتی سے بجلی کا میٹر بھی رکھتا ہے۔ گویا آج کل بجلی کی لائن گھر میں نہیں، پھانسی کی رسی ہے، جس پر ہر مہینے عوام کو لٹکایا جاتا ہے، کبھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر، کبھی نیلم جہلم سرچارج کے ذریعے، اور کبھی ٹیکسوں کے انبار تلے۔ لیکن اس بار جو نیا تماشہ ہوا ہے وہ 200 یونٹ کے بعد والے صارفین کی چمڑی اتارنے کی اسکیم ہے۔ایک غریب گھرانہ جس میں دو پنکھے، ایک فریج اور دو بلب چلتے ہیں، گرمی کی شدت میں بجلی بچا بچا کر استعمال کرتا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ ہر ماہ 200 یونٹ کی حد کو عبور نہ کرے تاکہ اسے سبسڈی کا کچھ فائدہ ملے، مگر جونہی میٹر 201 پر پہنچتا ہے، وہ گویا کسی دشمن ملک کے زمرے میں آجاتا ہے۔ اور پھر اس پر وہی ٹیرف لاگو ہوتا ہے جو اے سی، اوون، اور جنریٹر والے خوشحال طبقے پر ہوتا ہے۔یہ کون سا انصاف ہے؟کیا 201 یونٹ والا شخص اچانک امیر ہو جاتا ہے؟ کیا وہ اسی لمحے جاگیردار یا صنعتکار بن جاتا ہے؟ جی نہیں! وہ وہی ہے، اسی کچی بستی کا باسی، جس کا بچہ گرم کمرے میں سسکتا ہے، جس کی بیوی موم بتی جلا کر کھانا بناتی ہے، جسے ہر ماہ بل دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ شاید یہ کوئی سزا نامہ ہے، نہ کہ بجلی کا حساب۔حکومت وقت کا بیانیہ سنیں:"ہم نے غریب طبقے کو ریلیف دیا ہے، 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو سبسڈی ملے گی۔''واہ!اس دانشوری کی کیا تعریف کی جائے!ایک معصومانہ سا سوال :تو کیا 201 یونٹ والے سبسڈی کے قابل نہیں؟کیا وہ کوئی الگ مخلوق ہیں؟کیا وہ آسمان سے امیر ہو کر گرے ہیں؟دو افراد کا ایک خاندان ہے، انہوں نے اس ماہ 199 یونٹ بجلی استعمال کی، ان کا بل آیا 3800 روپے۔ دوسرے خاندان نے 201 یونٹ استعمال کیے، ان کا بل آیا 7900 روپے۔ صرف دو یونٹ اضافی استعمال کرنے پر بل تقریباً دُگنا؟ کیا یہ انصاف ہے یا بجلی کی آڑ میں عوام کی کھال اُتارنے کا منصوبہ؟پھر سنیں ایک اور ظلم کی کہانی:
اگر کوئی صارف 201 یونٹ استعمال کر لے تو وہ تمام یونٹ، یہاں تک کہ پہلے والے 200 یونٹ بھی سبسڈی سے نکال دیے جاتے ہیں۔ یعنی سب کچھ مارکیٹ ریٹ پر، مہنگے داموں۔ کیا یہ عقلمندی ہے یا دانستہ عوام کو سزا دینا؟حکومت کی بے حسی یہاں ختم نہیں ہوتی۔مہنگائی، بے روزگاری، پٹرول کی قیمتیں، آٹا، چینی، سبزیاں، ہر چیز آسمان پر، اور اوپر سے بجلی کا عذاب۔ اور پھر ان سب کے بیچ سادہ لوح عوام سے کہا جاتا ہے،کہ قوم قربانی دے ۔کون سی قوم؟کیسی قربانی؟کیا عوام نے کم قربانیاں دی ہیں؟کیا وہ روز زندہ رہنے کی کوشش کر کے مر نہیں جاتے؟ہماری معیشت کا المیہ دیکھیںہر ادارہ خسارے میں، ہر محکمہ کرپشن زدہ، اور بوجھ غریب پر۔ بجلی چوری ہوتی ہے، کنڈے لگتے ہیں، افسر شاہی مفت یونٹ استعمال کرتی ہے، مگر بل عام صارف کو دینا پڑتا ہے۔ واپڈا اور بجلی کمپنیوں کے بڑے بابو اب بھی ماہانہ ہزاروں یونٹ ''مفت'' جلاتے ہیں، ان کے گھروں میں جھلملاتی روشنی، اور غریب کے گھر میں اندھیرا۔پھر آتی ہے حکومتی دلیل:"عالمی مالیاتی ادارے کا دباؤ ہے، سبسڈی ختم کرنی پڑی۔''تو جناب! صرف غریب کی سبسڈی کیوں؟کیا اسمبلیوں میں بیٹھے افراد، اداروں کے آفسران کی بجلی مفت ہونی چاہیے؟کیا ملک صرف غریب کی قربانی سے ہی چلے گا؟کیا صاحبِ اقتدار طبقہ ہر قربانی سے مستثنیٰ ہے؟عوام کو اب ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔انہیں احتجاج کرنا ہوگا، آواز اٹھانی ہوگی، سوشل میڈیا پر مہم چلانی ہوگی، تاکہ یہ ظالمانہ نظام تبدیل ہو۔ یہ 200 یونٹ کا جال ایک سوچی سمجھی اسکیم ہے کہ غریب کبھی بھی اپنے حالات بہتر نہ کر سکے۔ جونہی وہ ذرا سا آگے بڑھے، اُسے سزا دی جائے۔غریب کے بنیادی مطالبات جو حکومت کو سننے چاہیں۔1۔200 یونٹ کے بعد سبسڈی مکمل ختم کرنے کی پالیسی بدلی جائے۔2۔201 سے 300 یونٹ کے لیے الگ رعایتی سلیب مقرر کی جائے۔3۔بجلی کے بلوں سے ظالمانہ ٹیکس فوری ہٹائے جائیں۔4۔ اداروں کے مفت یونٹ بند کیے جائیں اور وہی رقم عوام پر خرچ کی جائے۔5۔ بلوں کے خلاف فوری عوامی ریلیف کمیٹی بنائی جائے۔آخر میں بس یہ عرض ہے کہ بجلی روشنی کی علامت ہے ،اور یہ عوام کی بنیادی ضرورت ہے ،سزا نہیں ۔یہ ملک عوام کا ہے، اور جب تک عوام کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا، نہ معیشت چلے گی، نہ ترقی ممکن ہوگی۔ غریب کو جینے کا حق دیجیے، نہ کہ اسے 201 یونٹ کے نام پر معاشی پھانسی پر لٹکائیے۔حکومت سے پرزور اپیل ہے کہ غریبوں کے حال پر رحم کیا جائے،انہیں جینے کا حق دیا جائے اور یاد رکھیں کہ بجلی غریب کے لیے کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہے ۔آج اس بلوں میں ہوشربا اضافوں کے باعث لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ سیدنا عمر فاروق ؓ جب امیر المومنین بنے تو آپ نے فرمایا کہ اگر میری دور حکومت میں دریائے فراط کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مرگیا،تو قیامت کے دن عمرؓ کو اس کا بھی حساب ہوگا،واضح آپؓ نے بائیس لاکھ مربہ میل پر حکومت کی تھی۔مگر آج تو یہاں بھوک سے انسان مررہے ہیں ،ٹی وی چینلز پر افلاس کے ہاتھوں مجبور انسانوں کی بے بسی دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ اگر اس منصف نے ابھی حشر اٹھا دیا تو کیا ہوگا؟یقین کریں کہ یہ بل نہیں بلکہ ہر مہینے موت کا پروانہ ہوتا ہے۔اے حاکمین وقت خداراہ! اس غریب عوام کے حالوں پر رحم کیا جائے ،نہیں تو ان غریبوں کو بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے اپنے بچے اور جسم کے اعضاء بیچنا پڑیں گے ۔کیا مٹ جائیں گے غریب تو رحم ہوگا؟