قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو: غریبوں کا لیڈر

 ندیم ملک
قائد ذوالفقار علی بھٹو کا نام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر درج ہے جس نے طاقت کے ایوانوں سے نکل کر عوام کی گلیوں، کھیتوں، کارخانوں اور مزدوروں تک سیاست کو پہنچایا۔ وہ محض ایک سیاست دان نہیں تھے بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک تھے جس نے پاکستان کے غریب، محروم اور پسے ہوئے طبقات کو زبان، شناخت اور حوصلہ عطا کیا۔ بھٹو نے سیاست کو اشرافیہ کی بند کمروں والی گفتگو سے نکال کر عوامی اجتماعوں، نعروں، مطالبات اور عملی اصلاحات کی شکل دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی انہیں ‘‘غریبوں کا لیڈر’’ کہا جاتا ہے—یہ محض ایک لقب نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے
ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء￿  کو لاڑکانہ کے ایک بااثر گھرانے میں پیدا ہوئے، مگر ان کی سیاست کا مرکز و محور جاگیردارانہ مفاد نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی بنی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی برکلے اور آکسفورڈ جیسے اداروں سے اور قانون کی تربیت لی، مگر ان کی اصل درسگاہ پاکستان کی گلیاں، فیکٹریوں کے گیٹ، کسانوں کے کھیت اور مزدوروں کے مسائل تھے۔ بھٹو نے جس دور میں سیاست کا آغاز کیا، وہ پاکستان کے لیے داخلی و خارجی بحرانوں کا زمانہ تھا۔ اشرافیہ کی سیاست، بیوروکریسی کی بالا دستی اور عوامی محرومی نے ملک کو ایک طبقاتی تقسیم میں جکڑ رکھا تھا۔ بھٹو نے اسی جمود کو توڑنے کا بیڑا اٹھایا
1967ء￿  میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام محض ایک سیاسی جماعت کی تشکیل نہیں تھا بلکہ ایک سماجی معاہدہ تھا جو ریاست اور عوام کے درمیان ازسرِنو ترتیب دیا جا رہا تھا۔ ‘‘روٹی، کپڑا اور مکان’’ کا نعرہ کسی سیاسی اشتہار کی سطر نہیں بلکہ عوامی زندگی کی بنیادی ضروریات کا اعتراف تھا۔ بھٹو نے پہلی بار ریاستی ترجیحات میں غریب کو مرکزی حیثیت دی۔ اس نعرے نے مزدور کو امید دی، کسان کو آواز دی اور شہری غریب کو یقین دلایا کہ ریاست اس کی ہے، صرف طاقتوروں کی نہیں
بھٹو کی سیاست کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ عوام سے بات کرتے تھے، عوام پر نہیں۔ ان کے جلسوں میں زبان عام فہم ہوتی، لہجہ بے تکلف اور پیغام براہِ راست۔ وہ کہتے تھے کہ سیاست کا مقصد انسان کی عزتِ نفس کی بحالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں مزدور قوانین بنے، یونین سازی کو فروغ ملا، کم از کم اجرت جیسے تصورات نے عملی شکل اختیار کی، اور ریاست نے پہلی بار صنعتی مزدور کو ایک فریق کے طور پر تسلیم کیا۔ کارخانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو معلوم ہوا کہ ان کی محنت کی قیمت ہے اور ان کے حقوق قابلِ دفاع ہیں
کسانوں کے لیے بھی بھٹو کا دور ایک نئی صبح کی مانند تھا۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے بڑے بڑے جاگیردارانہ ڈھانچوں کو چیلنج کیا گیا۔ اگرچہ ان اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ ہونے میں رکاوٹیں آئیں، مگر سمت درست کر دی گئی۔ مزارعین اور ہاریوں کو یہ پیغام ملا کہ زمین صرف چند خاندانوں کی میراث نہیں بلکہ اس پر محنت کرنے والوں کا حق بھی ہے۔ بھٹو نے کسان کو محض ووٹ بینک نہیں بلکہ ترقی کے شراکت دار کے طور پر دیکھا
قومی خودمختاری کے باب میں بھی بھٹو کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ 1973ء￿  کا آئین ان کی قیادت میں تشکیل پایا ایک ایسا آئین جس نے بنیادی حقوق کی ضمانت دی، پارلیمانی جمہوریت کو مستحکم کیا اور وفاقی اکائیوں کو شناخت و اختیار دیا۔ یہ آئین دراصل غریب آدمی کے لیے ایک تحفظ نامہ تھا، جس میں تعلیم، اظہارِ رائے، روزگار اور مساوات جیسے اصولوں کو ریاستی ذمہ داری بنایا گیا۔ بھٹو جانتے تھے کہ غریب کی سب سے بڑی ضرورت انصاف ہے اور انصاف آئین کے بغیر ممکن نہیں
بھٹو کے دور میں قومی تحویل (Nationalization) کی پالیسی کو بہت تنقید کا سامنا رہا، مگر اس کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس پالیسی کا مقصد دولت کے ارتکاز کو توڑنا اور ریاستی وسائل کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنا تھا۔ بینکوں، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کی قومی تحویل کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ معیشت چند ہاتھوں میں قید نہیں رہے گی۔ اگرچہ عملدرآمد میں خامیاں رہیں، مگر نیت اور سمت غریب دوست تھی
خارجہ پالیسی میں بھٹو نے پاکستان کو ایک خوددار آواز دی۔ اسلامی دنیا کو قریب لایا، تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ اتحاد مضبوط کیا اور عالمی طاقتوں کے سامنے برابری کی سطح پر بات کی۔ 1974ء￿  کی اسلامی سربراہی کانفرنس ہو یا ایٹمی پروگرام کی بنیاد یہ سب قومی سلامتی کے وہ فیصلے تھے جن کا مقصد ایک مضبوط ریاست تھا، کیونکہ بھٹو کے نزدیک مضبوط ریاست ہی اپنے غریب شہریوں کا تحفظ کر سکتی ہے
بھٹو کی سب سے بڑی آزمائش 1977ء￿  کے بعد آئی۔ منتخب وزیر اعظم کو ایک آمرانہ اقدام کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا، پھر ایک متنازع عدالتی فیصلے کے ذریعے انہیں پھانسی دے دی گئی۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ جسمانی موت کسی نظریے کو ختم نہیں کر سکتی۔ بھٹو کا جنازہ محدود ہو سکتا تھا، مگر ان کا غم ہر دل میں اترا۔ وہ پھانسی گھاٹ پر گئے، مگر عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے
ذوالفقار علی بھٹو کی وراثت صرف ایک خاندان یا جماعت تک محدود نہیں۔ یہ وراثت ہر اس شخص کی ہے جو انصاف، مساوات اور عوامی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔ ان کی سیاست ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ غریب کی بات کرنا کافی نہیں، اس کے لیے پالیسی بنانا اور قربانی دینا بھی لازم ہے۔ بھٹو نے اقتدار کو مقصد نہیں بنایا، بلکہ مقصد کے لیے اقتدار قبول کیا—اور یہی انہیں عام سیاست دانوں سے ممتاز کرتا ہے
آج کے پاکستان میں، جب معاشی ناہمواری بڑھ رہی ہے، مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے، اور سیاست پھر سے اشرافیہ کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، بھٹو کی فکر پہلے سے زیادہ relevant ہے۔ ‘‘روٹی، کپڑا اور مکان’’ آج بھی ادھورا وعدہ ہے، مگر یہی وعدہ ہماری سمت درست کر سکتا ہے۔ بھٹو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ GDP نہیں، بلکہ شہری کی زندگی کا معیار ہے
قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے غریب کو خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا، بولنے کی جرات دی اور حق مانگنے کا شعور بخشا۔ ان کی سیاست میں غلطیاں ہو سکتی ہیں، مگر نیت میں عوامیت، فکر میں مساوات اور عمل میں جرات نمایاں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود بھی وہ پاکستان کے غریب کا لیڈر کہلاتے ہیں اور رہیں گے
اس میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک فرد نہیں، ایک معیار تھے۔ وہ معیار جس پر سیاست کو پرکھا جانا چاہیے: کیا یہ عوام کے لیے ہے؟ کیا یہ غریب کی زندگی بدلتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہو تو وہ سیاست بھٹو کی سیاست ہے اور اگر نہیں، تو محض اقتدار کی کشمکش
ذوالفقار علی بھٹوغریبوں کا لیڈر، عوام کی آواز، اور تاریخ کا روشن باب
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نام میرا یہ شعر

ہم کو تہذیب سکھاتی ہے محبت کرنا
اور دنیا ہمیں نفرت پہ لگا دیتی ہے