میروں سے ٹیکس وصول کرو، غریبوں سے نہیں

فاروق طارق
حقوقِ خلق پارٹی کے صدر فاروق طارق نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس  کو 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی آئی ایم ایف تجویز کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحران کا بوجھ پہلے ہی مزدوروں، کسانوں، تنخواہ دار طبقے اور غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے، جبکہ ملک کے امیر ترین طبقات، بڑی کارپوریشنز، جاگیرداروں اور اشرافیہ کو مسلسل مراعات دی جا رہی ہیں۔فاروق طارق نے کہا کہ پاکستان، بھارت اور سری لنکا میں عمومی سیلز ٹیکس کی شرح تقریباً 18 فیصد ہے۔ اگر پاکستان میں اسے مزید بڑھا کر 19 فیصد کیا گیا تو پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ جنرل سیلز ٹیکس وصول کرنے والا ملک بن جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں خوراک، ادویات، ٹرانسپورٹ، بجلی، گھریلو اشیاء￿  اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مزید مہنگی ہو جائے گی، جس سے مہنگائی، غربت اور عدم مساوات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنرل سیلز ٹیکس ایک رجعتی (Regressive) ٹیکس ہے جو امیر اور غریب دونوں سے یکساں شرح پر وصول کیا جاتا ہے۔ ایک مزدور، کسان یا کم آمدنی والا شہری جب آٹا، چینی، کپڑا، جوتے یا دیگر ضروری اشیاء￿  خریدتا ہے تو وہ بھی وہی ٹیکس ادا کرتا ہے جو ایک ارب پتی ادا کرتا ہے۔ اس لیے سیلز ٹیکس میں اضافہ درحقیقت غریب عوام پر معاشی حملہ ہے۔فاروق طارق نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے بڑی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس کے خلاف تمام اپیلیں مسترد کر دی تھیں اور واضح کیا تھا کہ حکومت کے پاس بڑے منافع کمانے والے اداروں اور کارپوریشنز سے یہ ٹیکس وصول کرنے کا مکمل قانونی اختیار موجود ہے۔ اس کے باوجود بڑی کمپنیوں نے تقریباً 300 ارب روپے کی سپر ٹیکس ادائیگی روک رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایک فیصد اضافی جنرل سیلز ٹیکس لگا کر غریب عوام سے تقریباً 250 ارب روپے مزید وصول کرنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف امیر ترین کمپنیوں سے واجب الادا 300 ارب روپے وصول کرنے میں ناکام ہے۔ اگر حکومت واقعی مالی وسائل بڑھانا چاہتی ہے تو اسے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے بجائے کارپوریٹ اشرافیہ اور بڑے سرمایہ داروں سے ٹیکس وصول کرنا چاہیے۔

فاروق طارق نے ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی بھی شدید مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کی حوصلہ شکنی کریں گے اور فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، جہاں سیلاب، ہیٹ ویوز، خشک سالی اور غیر معمولی موسمی تبدیلیاں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور معیشت کو متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود آئی ایم ایف بارہا اس بات کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ پاکستان کے امیر طبقات اور بڑی کمپنیاں اپنی آمدنی کے تناسب سے ٹیکس ادا نہیں کرتیں۔ مگر جب ان سے ٹیکس وصولی کے قانونی اور عدالتی راستے موجود ہیں تو حکومت اور آئی ایم ایف دونوں آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے غریب عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا رہے ہیں۔

فاروق طارق نے کہا کہ پاکستان کو ایک منصفانہ ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جس میں دولت، منافع، جائیداد، بڑی زمینوں اور غیر پیداواری اثاثوں پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے، جبکہ ضروری اشیاء￿  پر عائد ٹیکس کم کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے مرحلہ وار 10 فیصد تک لایا جائے اور قومی آمدن بڑھانے کے لیے امیروں، بڑی کارپوریشنز، بینکوں، رئیل اسٹیٹ مافیا اور جاگیردار اشرافیہ سے مؤثر ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی بحران کا حل عوام پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ دولت کی منصفانہ تقسیم اور ٹیکس انصاف (Tax Justice) کو یقینی بنانا ہے۔