مسرور احمد مسرور
پاکستان میں غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے، حکومتوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن کوئی حکومت غریبوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کچھ کرتی نظر نہیں آتی۔ یہ حکومتیں اپنے پیٹ بھرنے میں اس قدر مصروف ہوتی ہیں کہ انھیں غریب عوام کی طرف دیکھنے، ان کی مشکلات کو سمجھنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے اثاثوں میں اضافے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں اور اپنی پوری توجہ اسی کام کی جانب مرکوز رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں امیر، امیر تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور غریب عوام غربت کی لکیر سے نیچے تیزی کے ساتھ جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشرافیہ کا ایک طبقہ راج کرتا دکھائی دیتا ہے جس کے لیے کوئی مسائل نہیں، نہ ہی کوئی پریشانی ہے البتہ غریب عوام کی زندگی میں مسائل کا ایک ایسا انبار ہے جس کے بوجھ تلے وہ بری طرح دب چکے ہیں۔ انھیں ان مسائل سے باہر نکالنے کے لیے حکومت کے پیش نظر کوئی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی غریب عوام کی آہ و بکا سننے کے لیے ان کے ساتھ کوئی کھڑا ہونے کو تیار ہے۔ غریب عوام کا یہ مظلوم طبقہ جائے تو کہاں جائے اور کس کے سامنے اپنا رونا روئے اور کس کے آگے اپنی فریاد بیان کرے؟ یہ ایک بہت ہی افسوس ناک پہلو ہے جو اس معاشرے میں سنگین المیے کے طور پر اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔
ہماری حکومتیں اگر غریب عوام کے در د کو سمجھ نہیں سکتیں اور انھیں اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتیں تو پھر خدارا وہ غریب عوام کا نام استعمال کرکے قومی خزانے پر ڈاکے تو نہ ڈالیں اور غریبوں کے لیے مختص صدقات اور زکوٰۃ کی رقوم پر ہاتھ صاف نہ کریں۔یہ سب اخلاقی تقاضوں اور انسانیت کی روح کو شرم سار کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
ہمارے مشاہدے میں حکومت کے تین ایسے پروگرام نمایاں طور پر پیش نظر رہے جو غریب مستحق لوگوں کے حوالے سے شروع کیے گئے لیکن ان پروگراموں کے ذریعے غریب لوگوں کو تو کچھ نہ ملا البتہ ان کے ذمہ داروں کے وارے نیارے ہو گئے۔ اس سلسلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سب سے زیادہ لوٹ مار اور سب سے زیادہ کرپشن کا شاہکار پروگرام قرار پایا۔ اس حوالے سے اکاؤنٹینٹ جنرل کی آڈٹ رپورٹ میں کرپشن کیے جانے کے سلسلے میں جو نشان دہی کی ہے وہ ادارے میں ہونے والے معاملات میں افسوس ناک حد تک بے ضابطگیوں کو ظاہر کرتی ہے۔غریبوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے یوٹیلیٹی اسٹورز کا ایک پروگرام بھی متعارف کروایا گیا تھا۔ اس پروگرام میں بھی اربوں روپوں کی کہانی چل رہی تھی لیکن غریب عوام کو اس پروگرام سے بھی کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ البتہ پروگرام کے ذمہ داروں نے ادھر کا مال اُدھر کرکے کروڑوں روپوں کی دیہاڑی لگائی۔شکر ہے رب کریم کا کرپشن سے متاثرہ یہ پروگرام بند کرنے کے سلسلے میں حکومت نے ہمت دکھائی اور کرپشن کے اس پروگرام کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ غریب مستحق بزرگوں کو ان کی مدت ملازمت ختم ہونے پر ایک ادارہ EOBI قائم کیا گیا جو ایک قانون کے تحت سابق ملازمین کو پنشن دینے کا پابند ہے۔ اس ادارے میں اربوں کے فنڈز کا عمل دخل ہے اور یہاں بھی کرپشن کا دور دورہ ہے۔ اگر BISP کی طرح اس ادارے کا بھی اکاؤنٹینٹ جنرل پاکستان کے تحت آڈٹ کروایا جائے تو اربوں روپوں کی کرپشن کی کہانیاں منظر عام پر آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ۔ حکومت کو اس ادارے میں ہونے والی کرپشن ختم کرنے کی جانب سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔