یہود کی طاقت: حقیقت یا فریبِ نظر؟

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اسی طرح اسرائیل پچھلے کئی سالوں سے امریکاکوایران پر حملے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کرتارہا لیکن نہ صرف یہ کہ امریکانے اس کی اس خواہش کوپورا نہیں کیابلکہ امریکانے اسرائیل کوبھی سختی سے ایران پرکسی بھی قسم کے حملے سے روک دیاتھا۔
ان تمام حقائق کے باوجودآخرامریکاکیوں اسرائیل کی اس قدرحمایت کرتاہے۔سب سے پہلے تواس بات کوذہن نشین کرلیناچاہیے کہ امریکاایک نظریاتی ریاست اوردنیاکی واحد سپرپاورہے۔امریکا جوبھی فیصلے کرتاہے اپنی ضرورت اورمفادات کو سامنے رکھ کر کرتاہے۔مشرق وسطیٰ کاعلاقہ کئی اعتبارسے اہمیت رکھتاہے۔دنیاکے تمام تجارتی بحری قافلے اس کے بحری علاقوں سے گزرتے ہیں،دنیاکے66فیصدسے زائدتیل وگیس کے ذخائراس علاقے میں موجودہیں اوران تما م باتوں سے بڑھ کریہ علاقے مسلم اکثریتی آبادی رکھتے ہیں۔مشرق وسطی کی اہمیت کو واضح کر نے کیلئے سابق برطانوی وزیر اعظم ہنری کیمپ بل(بینرمین)کاایک ہی تبصرہ کافی ہے:
’’یہاں پروہ لوگ(مسلمان )رہتے ہیں جواس زبردست علاقے اوراس زمین میں موجود ذخائرکوکنٹرول کرتے ہیں۔ان کی زمین انسانی تہذیب اورمذاہب کاگہوراہ ہے،ان لوگوں کاعقیدہ زبان، تاریخ اورجذبات ایک سے ہیں۔کوئی قدرتی رکاوٹ ان لوگوں کو ایک دوسرے سے جدانہیں کرسکتی اوراگرکبھی جداہوبھی جائیں تویہ دوبارہ ایک مملکت میں ضم ہوجائیں گے۔پھریہ دنیاکی قسمت کو اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اوریورپ کوباقی دنیاسے کاٹ دیں گے۔ان وجوہات کوسنجیدگی سے لیاجائے توضروری ہے کہ ایک بیرونی اکائی کو اس قوم کے دل میں پیوست کردیاجائے تاکہ اس قوم کی صلاحیتوں کوکبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں میں ضائع کر دیاجائے۔یہ بیرونی اکائی مغرب کیلئے ایک ایسے پلیٹ فارم کاکام بھی کرے گی جہاں سے وہ اپنے خفیہ منصوبوں کوانجا م دے سکے گا‘‘۔
یہ ہیں وہ بنیا دی وجوہات جن کی بناپرپہلی جنگ عظیم کے بعداس وقت کی سپرپاوربرطانیہ نے مشرق وسطیٰ کے علاقے میں یہودی مملکت کی کوششوں کاآغازکیااورپھردوسری جنگ عظیم کے بعدجب امریکاسپرپاوربن گیاتواس کے مفادکاتقاضہ بھی یہی تھا کہ اسرائیل کی ریاست قائم کی جائے اوراس کومضبوط بنایاجائے۔اسرائیلی ریاست کے ذریعے اس علاقے کو مسلسل جنگوں میں مبتلارکھاجاتاہے جس سے ایک طرف امریکی اسلحے کی فیکڑیاں چلتی رہتی ہیں تودوسری طرف ان ممالک کی کمزوری کے سبب امریکاان ممالک میں اپنے
اثرورسوخ کوبڑھاتااوربرقراررکھتاہے۔
دنیاکی واحدسپرپاورامریکاہے جوسرمایہ داریت کے نظریے کاعلم بردارہے۔مسلمانوں اوراسلام کاحقیقی دشمن یہودی یا اسرئیلی ریاست نہیں بلکہ امریکااورسرمایہ داریت کانظام ہے، اسرائیل تومحض امریکی مفادات کوپوراکرنے والاایک کھلا ڑی ہے۔اس کھلاڑی کی یہ جرأت اورطاقت نہیں ہوسکتی کہ وہ وقت کی واحدطاقت کواپنے مفادات کے مطابق چلاسکے۔ اسرائیل کی اس حقیقت کوایک اسرائیل استاداورامن کیلئے کام کرنے والے کارکن نے اس طرح سے بیان کیاہے:اسرائیل اپنے قبضوں کواس لیے برقراررکھ پاتاہے کیونکہ وہ مغرب خصوصاًامریکاکے استعماری مفادات کوپوراکرنے کیلئے تیاررہتاہے اورحقیقت میں اب اسرائیل امریکاکا ایک آزمودہ سپاہی بن چکاہے۔سابق امریکی وزیرخارجہ الیگزینڈرہیگ نے اسرائیل کے متعلق بڑااہم بیان دیاتھا:اسرائیل امریکاکا واحدسب سے بڑابحری وہوائی بیڑہ ہے جوڈوب نہیں سکتا۔
تاریخی اعتبارسے یہوداپنی سازشوں،مال واسباب اورسیاسی اثرورسوخ کے باوجودکبھی بھی اپنے سیاسی اہداف بغیرکسی بیرونی طاقت کی مددکے بغیرحاصل نہیں کرسکے۔پچھلے چودہ سوسال میں یہودعباسی خلافت،عثمانی خلافت،اسپین کی اموی حکومت، یورپ اورامریکامیں معاشی لحاظ سے ہمیشہ خوش حال رہے ہیں لیکن کبھی بھی کسی علاقے میں یہودکوئی قابل ذکرسیاسی مقام نہیں بناسکے۔ریاست مدینہ میں بنوقریضہ،بنوناصر،بنوقینوقاہ اورخیبرکے یہوداپنی معاشی سیاسی اور فوجی قوت کے باوجودکبھی بھی مدینہ کی ریاست کوبراہ راست چیلنج نہیں کرسکے بلکہ ہمیشہ قریش مکہ کی مددکاانتظارکرتے تھے اورآخرمیں اپنی سازشوں اوروعدہ خلافیوں کی بناپران کوبے دخل ہوناپڑا۔
یہودیورپ میں ہمیشہ دوسرے درجہ کے شہری رہے اورجب کسی حکمران نے ان پرظلم وستم کرناچاہاتوان کی معاشی طاقت کبھی کام نہ آئی۔جب عثمانی خلافت اپنے کمزورترین دور سے گزررہی تھی تویہودیوں نے خلیفہ عبدالحمید دوئم کواس بات کی پیش کش کی کہ اگرانہیں فلسطین کی زمین دے دی جائے توخلافت عثمانہ کے تمام قرض وہ اداکردیں گے لیکن اپنی معاشی قوت اورخلافت کی کمزوری کے باوجودیہوداپنے مقصدمیں کامیاب نہیں ہوسکے۔وہ قوم جوپچھلے ڈھائی ہزارسال سے اپنی تمام ترسازشی ذہنیت اورمال واسباب کے باوجود دربدرتھی،بالآخربرطانوی وزیراعظم ہنری کیمپ بل کی وفات کے چالیس سال بعداس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے برطانیہ عربوں کے سینے میں خنجرگھونپ کرفلسطین میں اسرائیل مملکت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔خطے میں اسرائیل کاقیام اس وجہ سے ضروری تھاکہ مسلمانوں کوہمیشہ کیلئے منقسم رکھنے اورخطے میں اپنے مفادات کے مستقل حصول کیلئے یہ ضروری ہے کہ یہودکوایک ریاست کی شکل میں طاقت دی جائے۔اللہ فرماتے ہیں۔
"یہ تمہاراکچھ بگاڑنہیں سکتے،زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستاسکتیہیں۔اگریہ تم سے لڑیں گے تومقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے ان کومددنہ ملے گی۔ یہ جہاں بھی پائے گئے ان پرذلت کی مارہی پڑی،کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تویہ اوربات ہے۔یہ اللہ کے غضب میں گھرچکے ہیں،ان پرمحتاجی ومغلوبی مسلط کر دی گئی ہے،اوریہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہواہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفرکرتے رہے اورانہوں نے پیغمبروں کوناحق قتل کیا۔یہ ان کی نافرمانیوں اورزیادتیوں کاانجام ہے۔(العمران111۔(112
اللہ نے قوم یہودپرہمیشہ ہمیشہ کی ذلت مسلط کردی ہے۔یہودسیاسی،معاشی اورفوجی لحاظ سے کبھی بھی مسلمانوں کے ہم پلہ نہیں رہے،آج اگریہودمسلمانوں پرغالب ہیں توصرف اپنے استعماری آقاامریکاکی قوت کی وجہ سے۔ہم مسلمانوں کویہ سمجھناچاہیے کہ امریکادانستہ اس نظریے کوفروغ دیتاہے کہ یہودی لابی اس قدرطاقتورہے کہ امریکاجیسی طاقت بھی اس کے آگے مجبورہوجاتی ہے،اس بات کوفروغ دینے سے امریکادوفائدے حاصل کرتاہے۔
1۔وہ مسلمانوں کی امریکاسے نفرت کارخ یہودکی طرف موڑدیتاہے۔
2۔مسلمان اسرائیل کواپنااصل دشمن سمجھ کرصرف اسرائیلی قوت کوختم کرنے کی کوششو ں میں لگ جا تے ہیں،اس طرح نہ تو امریکاختم ہوتاہے اورنہ ہی اسرائیل،امریکاغدارمسلم حکم رانوں کے ذریعے اس بات کوممکن بناتاہے کہ اسرائیل کے مقابلے میں مسلمانوں کی فوجی قوت منشتررہے اورپھریہ مسلم افواج آپس میں بھی قومیت اوروطنیت کی کفریہ بنیادوں پر لڑتی رہیں،مسلمانوں کوجان لیناچاہیے کہ جب تک وہ اپنی گردنوں پرمسلط غدارامریکی ایجنٹ حکمرانوں سے نجات حاصل نہیں کرتے امریکااوراس کے سرمایہ داری نظام سے چھٹکارا نہیں پاسکتے۔
یہاں یہ بتانابھی بہت ضروری ہے کہ یہاں امریکااوراسرائیل حکومتوں کی طرف اشارہ ہے۔جس طرح اسلامی حکومتیں مسلم عوام کی خواہشات کی علمبردارنہیں بلکہ اسی طرح مغرب اورامریکاکی حکومتیں بھی یہاں کے عوام کی مکمل خواہشات کی آئینہ دار نہیں۔اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ جب امریکا،برطانیہ اوران کے دیگراتحادیوں نے عراق پرحملہ کرنے کا اعلان کیاتو یورپ کی تاریخ کاسب سے بڑاملین افرادکامظاہرہ برطانیہ میں ہواجہاں ہرمکتبہ فکرکیافرادنے اس حملے کی بھرپور مخالفت کی اورآج بھی آئے دن برطانیہ،یورپ اور امریکامیں ہزاروں افرادسڑکوں پربے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام روکنے کیلئے سراپااحتجاج ہیں لیکن یہاں بھی سب سے بڑی رکاوٹ اس سرمایہ داری نظام کی پیداکردہ جمہوری نظام ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ دنیامیں جاری اس ظلم وستم کے خلاف جوادراک پیداہورہاہے،اس کوفوری طورپربہتراورجاری جمہوری اندازمیں حاصل کرنے کیلئے یہاں کی تمام سیاسی
جماعتوں میں عملًا شمولیت اختیارکی جائے اورسیاسی سفرمیں قانون سازاداروں میں پہنچ کرحق وصداقت کیلئے قانون سازی میں اپناکرداراداکیاجائے۔یقیناایک دن ضرورآئے
 گاکہ جب مظلوم کوانصاف ملے گااوریہی افرادجوآج سڑک پردنیامیں ہونے والے اسرائیلی،امریکی جارحیت کے خلاف اپنااحتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں،وہ آئندہ انتخابات میں اپنے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ہرامیدوارسے یہ وعدہ ضرور لیں گے کہ وہ پارلیمنٹ میں جاکرایسی قانون سازی کریں جن کی بنیادپرہرظالم کولگام ڈالی جاسکے۔
کچھ بھی تونہیں رہے گا،کچھ بھی تونہیں،بس نام رہے گااللہ کا!