سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
یہ سوچ بہت عام ہے کہ یہودی یااسرائیلی اس قدرچالاک اورذہین قوم ہے کہ امریکاجواس وقت دنیاکی واحدسپرپاورہے بظاہر اسرائیل کی مرضی کے کچھ بھی نہیں کرتایاکرسکتا۔ پوری دنیاکی معیشت پریہودیوں کاقبضہ ہے۔میڈیاپرکوئی موضوع یاخبران کی مرضی کے بغیرچل نہیں سکتی۔امریکامیں کوئی شخص کانگریس کاممبریاامریکاکاصدریہودی لابی کے پیسے اورسیاسی مددکے بغیرنہیں بن سکتا،یہ تاثرات اس وقت اورمضبوط ہوجاتے ہیں جب امریکامشرق وسطی میں اسرائیل کی حمایت میں نہ توکسی مخالفت کی پرواکرتاہے اورنہ ہی اپنے بنائے ہوئے اصولوں کوتوڑنے میں شرم محسوس کرتاہے،اس کے علاوہ فری میسنزکی کہانیاں،اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں،فوج اورکمانڈوزکی طاقت کے قصے ایساتاثرپیداکردیتے ہیں کہ یہ یقین ہونے لگتاہے جیسے دنیاکی اصل طاقت توایک چھو ٹی سی قوم یہودہے جس نے امریکایورپ اوردنیاکی تمام بڑی قوموں کوقابوکررکھاہے۔دنیامیں جوبھی فسادہوتاہے اس کے پیچھے یہودکاہاتھ ہوتاہے اورمسلمانوں پرہونے والے تمام مظالم کے ذمہ داریہودی ہیں۔اس تاثرکے نتیجے میں مسلمانوں میں یہ خیال جڑپکڑلیتاہے کہ اصل برائی امریکایااس کااستعماری نظام سرمایہ داریت نہیں بلکہ اسرائیل یایہودہیں۔اگران کی طاقت کاخاتمہ کردیاجائے تومسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ دوبارہ بحال کرلیں گے۔
مسلمان پراللہ نے یہ لازم کیاہے کہ وہ دین اسلام کوتمام ادیان پرغالب کریں،اس عمل کی انجام دہی کیلئے ضروری ہے کہ ہم دنیاکی سیاست کوسمجھیں،طاقت کے مراکزاورمسائل کی جڑکی صحیح نشاندہی کریں۔اگرہم نے اپنے دشمن کاصحیح تعین نہ کیاتوہماری توانائی غلط ہد ف پرضائع ہوجائے گی اورحقیقی دشمن مزیدطاقتورہوجائے گا۔یہ بات ہرشخص جانتاہے کہ سپر پاوراس ملک کو کہاجاتاہے جس کی مرضی کے مطابق دنیاکے تمام یابیشتر معاملات چلتے ہوں۔اس وقت امریکاکودنیاکی واحد سپرپاوراس لیے کہا جاتاہے کہ دنیاکے کسی بھی معاملے میں اس کی مرضی کوچیلنج کرنے والی کوئی دوسری طاقت موجودنہیں ہے۔امریکاکی معیشت دنیاکی معیشت کا17فیصدہے۔امریکاکادفاعی بجٹ روس چین،برطانیہ اورفرانس کے کل دفاعی بجٹ سے زیادہ ہوتاہے۔یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ کس طرح اسرائیل جوکہ سپرپاورنہیں اپناتحفظ امریکی فوجی اورسیاسی مددکے بغیرکرنہیں سکتا،جس کی معیشت ہر سال امریکی امدادکی محتاج ہووہ کس طرح امریکاکواپنے اشاروں پرچلنے پرمجبورکرسکتاہے؟یاپھریہ کہ اسرائیل کی طاقت کے تمام قصے بے بنیادہیں۔
عموعی طورپریہ سمجھاجاتاہے کہ امریکاکی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی اسرائیل کی مرضی کے تابع ہوتی ہے۔امریکا مشرق وسطی میں اسرائیل کومضبوط کرنے یااپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے فوجی بغاوتوں اورآمرحکمرانوں کی حمایت کرتاہے اور کبھی جمہوری قوتوں کی،کسی ملک کے خلاف پابندیاں لگاتاہے توکسی ملک کوامداددیتاہے،کبھی اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین نافذ کروانے کیلئے سیاسی اورفوجی اثرورسوخ استعمال کرتا ہے توکبھی اقوام متحدہ اوربین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتاہے،اب امریکاکے ان اعمال کایہ جواز پیش کرناکہ ایسا وہ صرف اورصرف اسرائیل کے دباکی وجہ سے کرتاہے،غلط ہوگا۔ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ امریکاافریقی ممالک لاطینی امریکااورمشرق بعید میں بھی اپنے مفادا ت کے حصول کیلئے اایسے ہی تمام اقدامات اٹھاتا ہے جیساکہ وہ مشرق وسطیٰ اورجنوبی ایشیامیں کرتاہے۔اگرامریکامشرق وسطیٰ کے علاوہ دنیاکے دوسرے حصوں میں بھی ایسے ہی اقدامات کرتاہے جہاں کوئی اسرائیلی مفادنہیں تواس کامطلب یہ ہے کہ امریکااتنی طاقت رکھتاہے کہ وہ اپنی من مانی مرضی سے پالیسیاں بناتاہے چاہے جن سے دوسرے اتفاق نہ کرتے ہوں۔
اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکاکئی بین الا قوامی امورمیں جن کااسرا ئیل کی سلامتی یامفادات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، پوری دنیاکی رائے کی مخالفت کرتاہے چاہے اس وجہ سے اس کوپوری دنیامیں شدیدتنقیدکانشانہ ہی کیوں نہ بنناپڑے ۔ پوری دنیانے زیرزمین بارودی سرنگوں کے خاتمے بین الا قوامی عدالت برائے جنگی جرائم کے قیام اوردنیامیں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنے کیلئے ان پردستخط کیے لیکن امریکانے ان معاہدوں کوتسلیم کرنے سے انکارکردیا۔اس تجزیے سے ہم یہ نتیجہ اخذکرسکتے ہیں کہ امریکامشرق وسطیٰ میں بھی ایسے اقدامات اس لیے کرتاہے کیونکہ بنیادی طورپریہ اس کے مفادمیں ہوتے ہیں نہ کہ اس وجہ سے کہ اس پراسرائیل کاکوئی دباؤہوتاہے۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ امریکامیں موجود تمام یہودی اسرائیل کی حمایت میں ایک ہوکرامریکاپردباڈالتے ہیں۔یہ تصورمعلومات کی کمی کانتیجہ ہے جہاں امریکامیں یہودیوں کی ایک بڑی تنظیم امریکااسرائیل پبلک افیئرزکمیٹی اوراس سے منسلک درجنوں ایسی یہودی تنظیمیں ہیں ، جوامریکی کانگرس پراسرائیل کے حق میں پالیسیاں بنانے کیلئے دباؤڈالتی ہیں جو بظاہر اسرائیل کے وجودکے خلاف تونہیں ہیں لیکن اسرائیل کی یہودی آباد کاروں کے حوالے سے پالیسی،نئے علاقوں پرقبضہ کرنے،دیوار کھڑی کرنے اورامریکاکی اسرائیل کی ہرحال میں حمایت کی شدیدمخالفت بھی کرتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کانگریس کے اراکین کی بہت بڑی اکثریت کواپنے حلقوں سے جیتنے کیلئے نہ تویہودی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اورنہ ہی ان کے پیسوں کی۔
ایسے تمام اراکین کانگرس جوکہ اسرائیلی پالیسیوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں ان کاتعلق ان علاقوں سے ہوتاہے جوان کے محفوظ ترین حلقے ہوتے ہیں اوروہ وہاں سے کئی دہائیوں سے جیتتے آرہے ہوتے ہیں مثلاامریکی اسپیکرکانگریس نینسی پلوسی جوکہ اسرائیل کی کھل کرحمایت کرتی تھی،ہر دفعہ80فیصدسے زائد ووٹ لیکر منتخب ہوجاتی تھیں۔یہ کہناکہ یہودی لابی بہت مالدارہے اورپیسے استعمال کرکے امریکی اراکین کانگرس پردباڈالتے ہیں،بالکل غلط مفروضہ ہے پیسوں کے لحاظ سے سب سے طاقتور لابی امریکامیں دفاعی یااسلحہ بنانے والے اداروں،تیل کی کمپنیوں اورادویات بنا نے والے اداروں کی ہے صرف’’ اے آئی پی اے سی ‘‘اور’’لاک ہیڈمارٹن ‘‘اپنے اداروں کی لابنگ پر’’نارتھ گرومین اورجنرل الیکٹرک بوئنگ‘‘ کے مقابلے میں بالترتیب سات اور پانچ گنازیادہ خرچ کرتے ہیں اسی طرح کی لابنگ کاخرچہ اوردوسرے ایسے کئی اداروں سے بہت کم ہے جودفاعی صنعت سے منسلک ہیں۔امریکامیں یہودیوں کی آبادی5فیصد سے بھی کم ہے اس میں سے بھی جب ایک معقول تعداداسرائیل کی ہرحال میں حمایت کی مخالفت کرتی ہو۔یہودی ووٹ امریکا کے99فیصدسے زیادہ حلقوں میں کوئی اہمیت نہ رکھتے ہوں،دولت کی بنیادپر یہودیوں سے زیادہ مضبوط لابیزموجودہوں توہم اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ دویاتین فیصدیہودی امریکاانتظامیہ پرکتنازورڈال سکتے ہیں؟ان تمام حقائق کے باوجوداگرہم اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ امریکااسرائیل کی مرضی کے خلاف کچھ بھی نہیں کرتاتو میں یہاں کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ یہ بھی خیال ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے۔
کسی بھی امریکی صدرنے جب یہ دیکھاکہ اسرائیل لابی کی طرف سے جس پالیسی کواپنانے کیلئے دباؤڈالاجارہاہے وہ امریکی مفاد میں نہیں توامریکی صدرنے ہمیشہ اسرائیل کومجبور کردیاکہ وہ امریکی پالیسی کواختیارکرے۔1956میں جب اسرائیل برطانیہ اور فرانس نے نہرسوئزپرقبضہ کرنے کیلئے جنگ کاآغازکیاتواس وقت کیامریکی صدرآئزن ہاورنے اس جنگ پرشدیدناراضی کااظہار کیااوراسرائیل کودھمکی دی کہ اگراس نے مصری علاقوں سے قبضہ ختم نہ کیاتوامریکامیں اسرائیلی بونڈزاورنجی طورپراسرائیل بھجوائی جانے والی،رقوم پرٹیکس کی چھوٹ ختم کردی جائے گی۔امریکی صدرآئزن ہاورنے اسرائیل کویہ دھمکی اس وقت دی تھی جب صرف چندہفتوں بعدامریکامیں صدارتی انتخابات ہونے جارہے تھے ۔ امریکی صدرآئرن ہاورکی اس دھمکی کے نتیجے میں اسرائیل نے چندمہینوں میں تمام مصری علاقے خالی کردئیے۔
اسی طرح جب1978میں جب اسرائیل نے لبنان پرحملہ کیااوردریائے لیتانی تک آگیاتوامریکی صدرجمی کارٹرنے اسرائیل کوامداد بندکرنیکی دھمکی دیکرمجبورکردیاکہ وہ لبنان کی سرحدمیں چند کلومیٹرتک محدودرہے۔اس کے بعداگلے امریکی صدررونالڈ ریگن نے1981میں’’اے آئی پی اے سی‘‘کے بھرپوردباؤکومستردکرتے ہوئے فوکس طیارے سعودی عرب کوبیچے۔اس کے 10 سال بعدبش سنئیرنے ’’اے آئی پی ایس ‘‘کے بھرپوردباؤکاکامیابی سے مقابلہ کیااوراسرائیل کی ناک رگڑتے ہوئے10/ارب کاقرضہ جاری نہیں کیاجب تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکی امن منصوبے کی راہ میں رکاوت’’یزٹحاک شمیر‘‘کوشکست نہیں ہوگئی کیونکہ یہ امریکی منصوبے میں رکاوٹ تھا۔2004میں بش جونیئرنے اسرائیل کونہ صرف چین سے اس معاہدے کوتوڑنے پرمجبورکردیاجس کے تحت اسرائیل نے طیاروں کوجدیدبنایاتھا بلکہ اسرائیلی وزارت دفاع کے ’’ڈائریکٹرجنرل آموس یارون ‘‘کوبھی استعفی دیناپڑا۔(جاری ہے)