ملک محمد اسحاق
حالیہ دنوں میں ایک مخصوص بیانیہ پھر گردش میں ہے پاکستان کا نوجوان ریاست سے کٹ چکا ہے،اداروں پر اس کا اعتماد ختم ہو چکا ہے،
اور وہ خاموشی سے ایک ایسے نظام سے نکل رہا ہے جو ناقابلِ اصلاح ہے۔یہ بیانیہ بظاہر دلکش ہے، زبان میں چمک ہے،
اور ڈیجیٹل دور کے جذباتی ذوق کو اپیل کرتا ہے مگر فکری اعتبار سے یہ انتخابی سچ، ادھورا تجزیہ اور کمزور منطق پر کھڑا ہے۔یہ تحریر مشکلات کا انکار نہیں کرتی،بلکہ انہیں سیاق و سباق میں رکھتی ہے۔یہ تنقید کو دبانے نہیں آئی،بلکہ اسے حقائق کے پیمانے پر پرکھنے آئی ہے اور یہ مقبولیت کے لیے جذبات نہیں بیچتی‘یہ ذمہ داری کے ساتھ حقیقت بیان کرتی ہے۔ کیا حب الوطنی بنائی جاتی ہے یا زندہ حقیقت ہے؟یہ کہنا کہ حب الوطنی اب ‘‘بیچی’’ جا رہی ہے،اس کے وجود کو نہیں، اس کی فہم کو مشکوک بناتا ہے۔پاکستان میں حب الوطنی کتابی تصور نہیں،نظریاتی وعظ نہیں،
بلکہ عملاً دیکھی جانے والی حقیقت ہے۔یہ ہمیں جنگ کے دنوں میں نظر آتی ہے،زلزلوں، سیلابوں اور قدرتی آفات میں عیاں ہوتی ہے،
• اور اس لمحے نمایاں ہوتی ہے جب ریاست، ادارے، افواج، عوام اور بیرونِ ملک پاکستانیبغیر کسی ہدایت کے ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایسی حب الوطنی نہ پڑھائی جاتی ہے نہ سکھائی جاتی ہے‘یہ صرف وہاں جنم لیتی ہے جہاں اجتماعی شناخت ابھی زندہ ہو۔یہ کہنا کہ حب الوطنی ختم ہو چکی ہے،تجزیہ نہیں یادداشت کی ناکامی ہے۔
کیا نوجوان خاموش ہے یا باشعور؟
خاموشی کو بے خبری سمجھنا‘سیاسی نفسیات سے ناواقفیت ہے۔آج کا پاکستانی نوجوان جانتا ہے کہ پروپیگنڈا کیسے کام کرتا ہے،پہچانتا ہے کہ معاشی عدم استحکام کو ‘‘مزاحمت’’ کیسے کہا جاتا ہے، اور فرق کرتا ہے احتجاج اور انتشار میں۔اسی شعور کے باعث وہ اشتعال انگیز سیاست سے دور،مستقل پولرائزیشن سے بیزار، اور آزمودہ، ادارہ جاتی اور نوجوان دوست قیادت کی طرف متوجہ ہے۔یہ خوف نہیں،یہ سیاسی بلوغت ہے۔
کیا بیرونِ ملک جانا برین ڈرین ہے؟
یہ دلیل عالمی حقائق کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔دنیا کے مضبوط ممالک اپنی افرادی قوت باہر بھیجتے ہیں اور اسے اپنی معیشت کا ستون بناتے ہیں۔
پاکستانی نوجوان:
آئی ٹی اور فری لانسنگ میں عالمی سطح پر سرگرم، اربوں ڈالر زرِمبادلہ وطن بھیج رہے ہیں،اور پاکستان کی ساکھ کو عالمی منڈیوں میں مضبوط کر رہے ہیں۔یہ فرار نہیں،یہ عالمی شراکت ہے۔تعمیری تنقید جمہوریت کی جان ہے،مگر اداروں کی تضحیک قوم کی کمزوری۔
پاکستان کی افواج اور ریاستی ادارے روایتی اور ہائبرڈ محاذوں پر برتری ثابت کر چکے ہیں،کئی ممالک آج سرحدی تحفظ میں رہنمائی چاہتے ہیں، اور ایک ایسی دنیا میں کھڑے ہیں جہاں طاقت اب بھی زبان ہے۔
کیا پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہے؟
یہ دعویٰ زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ علاقائی صف بندیاں بدل رہی ہیں،بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک تعلقات ازسرِنو دیکھ رہے ہیں،
• اور بڑی عالمی طاقتیں پاکستان کے ساتھ حقیقت پسندانہ روابط کی طرف لوٹ رہی ہیں۔سفارت کاری شور نہیں مچاتی وہ خاموشی سے سمت بدلتی ہے۔
معیشت: تباہی نہیں، تصحیح
ہاں، نقصان ہوا مگر ڈیفالٹ کا خطرہ پیچھے ہٹ چکا ہے،معاشی اشاریے سنبھل رہے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے محتاط بہتری نوٹ کر رہے ہیں۔یہ جشن نہیںیہ درست سمت ہے۔
?? اصل خطرہ کیا ہے؟
ادارے نہیں‘حب الوطنی نہی بلکہ آدھی معلومات۔تعلیم بڑھے گی تو شعور بڑھے گا اور شعور بڑھے گا تو پروپیگنڈا خود دفن ہو جائے گا۔اپنے ملک کا مذاق اڑانا دانشوری نہیں۔مایوسی بیچنا بصیرت نہیں۔اداروں کو کمزور کرنا بہادری نہیں۔پاکستان مکمل نہیں مگر زندہ، سیکھتا اور سنبھلتا ہوا ملک ہے۔نوجوان نے ملک نہیں چھوڑا‘اس نے سطحی مایوسی کو رد کیا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کہاں جا رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ ہماری گفتگو کب بالغ ہو گی۔ اگر آپ پاکستان کے نوجوانوں کی طاقت، اداروں کی اہمیت اور ملکی ترقی کے حقیقی حقائق جاننا چاہتے ہیں تو اس تحریر کو پڑھیں، شیئر کریں اور ذمہ دارانہ سوچ کو فروغ دیں۔اپنی رائے دیں، حقائق کے ساتھ بحث کریں، اور ملک کے مستقبل کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔