لاہور ہائیکورٹ: پتنگ بازی کی اجازت دینے والے قانون کیخلاف درخواست 22 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر

لاہور ہائیکورٹ: پتنگ بازی کی اجازت دینے والے قانون کیخلاف درخواست 22 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے شہریوں کو پتنگ بازی کی اجازت دینے کے قانون کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 22 جنوری کو مقرر کر دی ہے۔

رجسٹرار آفس نے کیس کی سماعت کے حوالے سے کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔عدالت کے جسٹس ملک محمد اویس خالد درخواست پر سماعت کریں گے۔ درخواست جسٹس جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ عدالت پہلے ہی اس معاملے میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر چکی ہے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کی اجازت دینے والا قانون عوامی تحفظ، انسانی جانوں اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دھاتی ڈور اور دیگر خطرناک آلات کے استعمال سے متعدد انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور شہری شدید زخمی ہوئے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پتنگ بازی کی اجازت دینے والے قانون کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جائے، کیونکہ یہ آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) اور آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔درخواست میں پنجاب حکومت، ہوم سیکرٹری پنجاب، ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ ادارے و افسران کو فریق بنایا گیا ہے۔