لاہور ہائی کورٹ میں پتنگ بازی آرڈیننس 2025 کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے درخواست گزار کو ڈی جی والڈ سٹی کو فریق بنانے کے لیے مزید مہلت دی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بسنت منانے کی سفارشات ڈی جی والڈ سٹی کی طرف سے دی گئی تھیں، اس لیے بنیادی طور پر انہیں فریق بنایا جانا ضروری ہے۔وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ انسانی جانوں کے تحفظ کا ہے اور اسے جلد سماعت کے لیے لایا جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ درخواست گزار اپنی انرجی بچا کر فریق بنا کر دلائل دیں، اور سرکاری وکیل کے تاخیر سے پیش ہونے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔عدالت نے کیس کی سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے، جسٹس محمد اویس خالد کی سربراہی میں سماعت کی۔ درخواست گزار، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق، نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آرڈیننس کے ذریعے عوامی جان و مال کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں دھاتی اور کیمیکل ڈور سے ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2001 اور 2024 کے قوانین کے باوجود ہلاکتیں رک نہیں رہیں، اور نیا ریگولیٹری آرڈیننس عوامی مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ پتنگ بازی آرڈیننس واپس لیا جائے اور ہلاکتوں کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیا جائے۔عدالت سے استدعا کی گئی کہ ہر جانی نقصان حکومت پر عائد کیا جائے اور آرڈیننس کے خلاف احکامات جاری کیے جائیں۔