بانی کی ہر ہفتے اہلیہ سے ملاقات‘ صحت بالکل ٹھیک‘مرضی کا کھانا ملتا ہے اعظم نذیر تارڑ

 جیل سپرنٹنڈنٹ کا اختیار ہوتا ہے  ملاقات طے کرے،  وفاق کا اختیار نہیں ہدایت دے، یہ معاملہ عدالت اور جیل انتظامیہ کے درمیان ہے،  اس پر رپورٹ لے کر پیش کروں گا
عدالتوں پر تنقید آسان مگر شواہد دینا اصل چیلنج ہے، مجرموں کو جیل مینول منع کرتا ہے وہ سیاسی معاملات ڈسکس نہیں کرسکتے:وفاقی وزیر قانون  کا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اظہار خیال 
اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر قانون اعظم سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے عدالتوں پر تنقید آسان مگر شواہد دینا اصل چیلنج ہے،  بانی پی ٹی آئی  عمران خان کو جیل میں تمام قانونی سہولیات دی جا رہی ہیں،  مرضی کا کھانا دیا جاتا ہے اور ان کی صحت بالکل تھیک ہے،مجرموں کو جیل مینول منع کرتا ہے کہ وہ سیاسی معاملات ڈسکس نہیں کرسکتے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کا اختیار ہوتا ہے کہ رویے کو دیکھتے ہوئے ملاقات طے کرے،  وفاق کا اختیار نہیں کہ وہ ان کو ہدایت دے۔اعظم نذیر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو عمران خان سے متعلق رپورٹ دی گئی تھی ، ان کو ان کی مرضی کا کھانا دیا جاتا ہے،سہولیات ملتی ہیں اور ان کی صحت ٹھیک ہے، ہر ہفتے ان کی اہلیہ سے ملاقات کرائی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجرموں کو جیل مینول منع کرتا ہے  کہ وہ سیاسی معاملات ڈسکس نہیں کرسکتے، یہ معاملہ عدالت اور جیل انتظامیہ کے درمیان ہے،  میں اس پر رپورٹ لے کر پیش کروں گا ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانونی معاملات پر اختیار اتھارٹی کے پاس ہوتا ہے، جبکہ قیدیوں کی کسٹڈی عدالتیں ریگولیٹ کرتی ہیں، یہ حکومتوں کا کام نہیں۔وفاقی وزیر قانون نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھا گیا تھا اور جیل میں ان سے ملاقاتیں بھی محدود وقت کے لیے ہوتی تھیں۔