عمران خان نے خود پمز ہسپتال سے علاج کروانے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا امن و امان کا مسئلہ ہو تو مجھے شام کو لے جائیں: وفاقی وزیر قانون
بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہوسکتی ہے، ان کی مرضی کے ڈاکٹر سے چیک کرایا جائے:اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کا سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے پمز ایک بہترین ہسپتال ہے اور بانی پی ٹی آئی نے خود خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے پمز ہسپتال میں لے جائیں اور علاج وہی سے کروایا جائے۔منگل کو سینیٹ اجلاس میں عمران خان کی صحت سے متعلق سوالات پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا اگر امن وامان کی صودتحال کا مسئلہ تو مجھے شام کو لے جائیں۔ پمز کے ای ڈی نے یہ باتیں ایک پریس کانفرنس میں کی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ بھی کوئی مسئلہ آیا تو انہیں یہ سہولیات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی کو ایک مسئلہ سامنے آیا جس پر انہوں نے خود کہا مجھے یہ انجکشن پمز سے لگوایا جائے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بلاشبہ آئین پاکستان ہر شخص کو حقوق دیتا ہے، حقوق کا اطلاق بھی آئینی طریقہ ہے۔ا پوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس ملک کے مقبول لیڈر ہیں، کوئی مانے نہ مانے دنیا مانتی ہے، دنیا میں غیر پاکستانی بھی بانی پی ٹی آئی کا پوچھتے ہیں۔ 14 مہینوں سے ان کے ذاتی معالج سے چیک اپ نہیں کروایا گیا، معالج سے چیک کروانا اور خاندان کو ان کی صحت سے مطلع رکھنا آئینی ذمہ داری ہے اور یہ ان کا بنیادی حق ہے۔۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو ڈپریشن سے نکالنے کی ضرورت ہے، قیدی کا حق ہے کہ اسے ملاقات کروائی جائے، سیاستدان سیاسی بیان نہیں دے گا تو اور کیا کرے گا، ان کی اہلیہ سے کیوں ملاقات نہیں کروائی جاتی، وہ کون سا سیاسی بیان دیتی ہیں، ہم نہیں کہتے انہیں ملک سے باہر بھیجا جائے۔