دہشتگردوں کوبحرِ ہند میں ڈبو دیں گے شہبازشریف
ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہیں دہشت گردوں کو وسائل دشمن کے ذریعے پہنچ رہے ہیں‘ قرضوں سے نجات، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں:، وزیراعظم کا قومی پیغام امن کمیٹی سے خطاب
وزیراعظم کے اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ‘ خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبوں میں علماء و مشائخ کے ساتھ مشاورت کے ذریعے امن کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں گے:ارکان امن کمیٹی
صحت کارڈ کا اجرا ء عوامی خدمت کا تسلسل ہے، صحت ہو گی تو مخالفین کو شکست دے سکیں گے، اسلام آباد، آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے عوام کوسہولت فراہم کی جارہی ہے، سندھ میں بھی اجرا ء کی تجویزبہت اچھی ہے: کارڈ اجراء کی افتتاحی تقریب سے خطاب
اسلام آباد ( آن لائن‘آئی این پی )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے غربت، بے روزگاری اور قرضوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا ناسور ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے اور خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ملک کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، جنہیں دشمن قوتوں کی جانب سے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔جمعہ کے روز قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے عقائد کے مطابق عبادت اور تہوار منانے کا پورا حق حاصل ہے اور پاکستان میں ہر شہری کو اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر ہونے چاہئیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے جن کی مالیت کھربوں ڈالر ہے، اگر ان وسائل کو دیانت داری اور درست حکمت عملی سے استعمال کیا جائے تو ملک کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور قرضوں سے نجات، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔انہوں نے مئی 2025 کے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کو ایسی شکست دی جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ یہ فتح اللہ تعالیٰ کی مدد، افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور 24 کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جن میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جس طرح 2018 میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا تھا، اسی عزم اور قوت کے ساتھ ایک بار پھر اس فتنے کو کچلا جائے گا۔قومی پیغام امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ وزیراعظم کے اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبوں میں علماء و مشائخ کے ساتھ مشاورت کے ذریعے امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ مختلف مکاتب فکر اور اقلیتی برادری کے نمائندوں نے کمیٹی کے قیام کو قومی وحدت اور امن کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔دریں اثناء شہباز شریف نے کہا ہے کہ صحت کارڈ کا اجرا عوامی خدمت کا تسلسل ہے جس کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلا جائے گا۔وفاقی دارالحکومت میں صحت سہولت کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آج ہم سب کے لیے ایک اہم دن ہے، صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولتیں ہر شہری کا بنیادی حق ہے، 2016میں نوازشریف نے یہ پروگرام شروع کیا تھا، صحت کارڈ پروگرام صوبوں میں پھیلا،لاکھوں خاندان مستفید ہوئے، صحت کارڈ کا اجرا عوامی خدمت کا تسلسل ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صحت ہوگی توانسان باوقار طریقے سے روزگار کما سکے گا، صحت ہو گی تو کھیلوں کیمیدان میں ملک کا نام روشن کریں گے، صحت ہوگی تو ہر میدان میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، صحت ہو گی تو مخالفین کو شکست دے سکیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد، آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے عوام کوسہولت فراہم کی جارہی ہے، امید ہیعوام کے اچھے علاج کو یقینی بنایا جائے گا، سندھ میں بھی اجرا کی تجویزبہت اچھی ہے، وزیراعلی سندھ سے بات کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا صحت کے حوالے سے اپنا کوئی پروگرام ہوگا، وزیراعلی سندھ صحت اور تعلیم کے حوالے سے بہت متحرک ہیں