انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (ICC) کے پراسیکیوٹر کریم خان نے اپنی پوزیشن پر قائم رہتے ہوئے اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات میں سنجیدگی کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے ICC کے خلاف منظور کیا جانے والا بل ان کے فیصلے کو تبدیل نہیں کرے گا۔کریم خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف نومبر 2024 میں جاری کیے جانے والے وارنٹس جنگی جرائم کے الزامات پر مبنی ہیں، جو انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک اسرائیل کی جانب سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی جس سے تحقیقات کی راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ICC ایک معتبر عالمی عدالت ہے جسے 125 ممالک تسلیم کرتے ہیں اور اس میں جنگی جرائم، نسل کشی اور جارحیت کے مقدمات چلائے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے ICC کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کیا ہے، جس کے باعث ICC اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، گزشتہ ہفتے امریکی ایوان نمائندگان نے ICC پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک بل منظور کیا تھا، جس کا مقصد ICC کی کارروائیوں کو روکنا تھا۔کریم خان نے کہا کہ ایسے حالات میں بھی وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور عدالت کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔