افغانستان کی طالبان حکومت نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے "سفاکانہ کارروائی اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔
ترجمان افغان حکومت ذبیح اللہ مجاہد نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی طیاروں نے دوحہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دفتر کو نشانہ بنایا، جس میں کئی افراد شہید ہوئے۔ طالبان حکومت نے شہدا کے اہل خانہ اور فلسطینی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
طالبان کا مؤقف:
اسرائیل بار بار عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔اسرائیلی افواج مسلسل جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہیں۔عالمی ادارے اور طاقتور ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جو افسوسناک اور تشویشناک ہے۔
مطالبات:
افغان طالبان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ:اسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم کو فوری طور پر روکا جائے۔ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے خلاف جاری بربریت کو ختم کیا جائے۔
پس منظر:
یہ فضائی حملہ اس وقت کیا گیا جب حماس کی اعلیٰ قیادت غزہ جنگ بندی معاہدے پر مشاورت کے لیے دوحہ میں جمع تھی۔ اسرائیلی حکومت اور فوج نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد حماس کی قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔