عمران خان کی جیل سہولتوں کے حوالے سے نظرثانی درخواست سماعت کے لیے مقرر

عمران خان کی جیل سہولتوں کے حوالے سے نظرثانی درخواست سماعت کے لیے مقرر

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جیل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کے حوالے سے نظرثانی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

عدالت نے 10 جنوری کو اسپیشل سینٹرل کورٹ کے جج شاہ رخ ارجمند کی جانب سے جیل سہولتوں کے متعلق جاری کردہ حکم کے خلاف درخواست پر اعتراضات دور کر دیے ہیں۔ عمران خان کے وکیل فیصل فرید چوہدری نے عدالت میں پیش ہو کر درخواست کی تفصیلات بیان کیں، جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ ٹرائل کورٹ کے حکم کو غلط استعمال ہونے سے روکا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو جیل میں ہائی پروفائل قیدی ہونے کے باوجود مناسب سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ جیل حکام کا رویہ آئین اور قانون کے خلاف ہے، جس کی بنا پر عمران خان کو ضروری سہولتیں جیسے کہ فیملی اور وکلا کے ساتھ ہفتہ وار ملاقاتیں، کتابیں اور روزنامے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ درخواست گزار کو اپنے بچوں کے ساتھ ہفتہ وار فون کالز کی سہولت دی جائے۔درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ پاکستان جیل رولز 1978 اور پریزن ایکٹ کے مطابق عمران خان کو جیل میں ان کے قانونی حقوق دیے جائیں، جس میں ملاقاتوں، معلومات اور دیگر بنیادی سہولتوں کا اہتمام شامل ہے۔عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے درخواست کو پیر کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی۔