ویب ڈیسک: اسلام آباد کی ایف آئی اے سینٹرل عدالت نے سہولیات فراہمی کیس میں اڈیالہ جیل حکام کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو بیرون ملک موجود اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے اور اپنے ذاتی معالج سے چیک اپ کرانے کا حکم دیا۔
کیس کی سماعت:
اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے 10 جنوری، 28 جنوری اور 3 فروری کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو ضروری قرار دیا اور اڈیالہ جیل حکام کی نظرثانی درخواست کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا تھا، اس لیے جیل حکام کی درخواست پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔
جیل حکام کی رپورٹ:
قبل ازیں، بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے بچوں سے بات کرنے اور ذاتی معالج سے چیک اپ کرانے کی درخواست کی تھی۔ جیل حکام نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ جیل رولز میں بیرون ملک بات کرانے یا ذاتی معالج سے چیک اپ کرانے کا کوئی ذکر نہیں۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے استدعا کی کہ عدالت 10 جنوری اور 3 فروری کے فیصلوں پر نظرثانی کرے اور بانی پی ٹی آئی کو سہولتیں دینے کے عدالتی حکم کو مسترد کر دے۔ جیل حکام نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ناحق اور غیر مجاز سہولتیں انجوائے کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے دیگر قیدی بھی ایسی سہولتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جیل حکام کا موقف:
جیل حکام کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عدالت کا حکم قیدیوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہریوں کے لیے مساوات کی ضمانت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ان سہولتوں کی فراہمی مستقبل میں جیل انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، اور اس طرح کی سہولتیں دوسرے قیدیوں کے لیے بھی مطالبہ کی جا سکتی ہیں، جو جیل کے رولز 1978 کے خلاف ہے۔
قیدیوں کی شکایات:
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اڈیالہ جیل میں 93 غیر ملکی قیدی موجود ہیں جو اپنے پیاروں سے بیرون ملک رابطہ کرنے کے خواہش مند ہیں، مگر انہیں یہ سہولت نہیں دی گئی۔ جیل حکام نے یہ بھی کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کی جانب سے غیر امتیازی سلوک پر مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور یہ سہولتیں جیل رولز 1978 میں شامل نہیں ہیں۔
عدالت کا حکم:
عدالت نے کیس کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی ہے اور تمام متعلقہ فریقین کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔اس فیصلے سے جیل حکام کے اس موقف کی حمایت کی گئی کہ ایک قیدی کو خصوصی سہولت دینا دوسرے قیدیوں کے حقوق کے خلاف ہو سکتا ہے اور اس طرح کے فیصلے جیل کے نظام میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔