ریاست مخالف پروپیگنڈا اور فرقہ واریت کی کوششیں بے نقاب

ریاست مخالف پروپیگنڈا اور فرقہ واریت کی کوششیں بے نقاب

رپورٹ کے اہم نکات:
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سوشل میڈیا کے منفی استعمال پر مبنی 20 روزہ رپورٹ حکومت کو بھجوائی، جس میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

ریاست مخالف ٹرینڈز:

گمنام اکاؤنٹس سے 6 ریاست مخالف ٹرینڈز چلائے گئے۔ان میں سے زیادہ تر ٹرینڈز کا محور خارجہ پالیسی کے خلاف منفی پروپیگنڈا تھا۔سول نافرمانی اور سیاسی اختلافات کو ہوا دینے والے ٹرینڈز بھی شامل تھے۔یہ ٹرینڈز زیادہ تر بیرونِ ممالک اکاؤنٹس سے آپریٹ کیے گئے۔
فرقہ وارانہ فسادات:

فرقہ واریت کو فروغ دینے والے 13 ٹرینڈز کی نشاندہی کی گئی۔پارا چنار واقعات پر سب سے زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا۔
متنازع مواد:

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے 42,848 پیجز اور سائٹس کو متنازع مواد پر مشتمل قرار دیا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذریعے گزشتہ سال 11,132 سائٹس کو بلاک کروایا گیا۔
اکاؤنٹس کی نگرانی:

2,197 شرانگیز مواد شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کو ٹریس کیا گیا۔اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر 366 سوشل میڈیا رپورٹس موصول ہوتی رہیں۔
حکومتی اقدامات:
سی ٹی ڈی اور پی ٹی اے نے سائبر کرائم اور فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کے خلاف اہم کردار ادا کیا ہے۔مزید سخت قوانین اور تکنیکی نگرانی کے ذریعے اس طرح کے مواد کو محدود کرنے کے لیے سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
عوامی شعور کی ضرورت:
رپورٹ نے سوشل میڈیا صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جھوٹی خبروں، فرقہ واریت، اور ریاست مخالف بیانیے کا حصہ بننے سے گریز کریں اور حقائق کی تصدیق کے بعد مواد شیئر کریں۔

یہ رپورٹ سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے اور ان کے تدارک کے لیے مضبوط حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔