وزیرِ مملکت آئی ٹی شزا فاطمہ نے اسلام آباد میں فائیو جی پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی سب سے بڑی سب میرین کیبل پاکستان پہنچ چکی ہے، اور ضرورت پڑنے پر مزید سب میرین کیبل بھی پاکستان تک پہنچے گی۔
انہوں نے انٹرنیٹ کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کبھی کبھار انٹرنیٹ میں مسائل آتے ہیں جس کی وجہ دباؤ ہے۔ شزا فاطمہ نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ پاکستان مئی یا جون میں اسپیکٹرم آفر کرے گا اور اپریل میں اسپیکٹرم کی نیلامی ہوگی، جس سے 5 جی کے ساتھ ساتھ 4 جی میں بھی بہتری آئے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کیبل پاکستان کے ساتھ جڑ چکی ہے، اور فائیو جی کی وجہ سے عالمی سطح پر 1.3 ٹریلین ڈالرز کی جی ڈی پی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان مستقبل میں کنیکٹیوٹی کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ ملک انٹرنیٹ کے حوالے سے ایک موزوں مرکز بن سکے۔شزا فاطمہ نے وزیرِ اعظم کے 25 ارب ڈالرز کے ٹارگٹ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان آئی ٹی ایکسپورٹس کو 3.2 بلین ڈالرز سے بڑھا کر 15 بلین ڈالرز تک لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔