برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امن معاہدے کے تحت برطانوی فوجیوں کی یوکرین میں تعیناتی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین میں دیرپا امن کا قیام ضروری ہے تاکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو مستقبل میں مزید جارحیت سے روکا جا سکے۔پیرس میں یورپی رہنماؤں کے ساتھ ہنگامی سربراہ اجلاس سے قبل، کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ ضرورت پڑنے پر اپنے فوجیوں کو یوکرین میں تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی سلامتی کی ضمانت دینا نہ صرف یوکرین بلکہ پورے یورپ کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، برطانوی فوجیوں کو دیگر یورپی ممالک کے فوجیوں کے ساتھ یوکرین کے زیرِ قبضہ اور روس کے زیرِ قبضہ علاقوں کے درمیان سرحد پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ کا خاتمہ محض ایک عارضی وقفہ نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ یوکرین کے مستقبل کی سلامتی کے لیے مستقل حل کی ضرورت ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانوی فوج کے سابق سربراہ لارڈ ڈینٹ نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی فوج اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ وہ مستقبل میں یوکرین میں کسی بھی امن مشن کی قیادت نہیں کر سکتی۔وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا یہ بیان یورپی رہنماؤں کے ساتھ یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے پیرس میں ہونے والے ہنگامی اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد یوکرین میں دیرپا امن کے قیام اور یورپ کی مجموعی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کرنا ہے۔