میاں منظور وٹو — ایک عہد، ایک سیاست

 رانا عامر
پاکستان کی سیاست میں میاں منظور احمد وٹو کا نام ایک ایسے سیاست دان کے طور پر لیا جاتا ہے جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں کے ساتھ ساتھ سیاسی نشیب و فراز کو بھی بہت قریب سے دیکھا۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کے انتقال کے ساتھ ہی پنجاب کی سیاست کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوگیا۔ وہ 1993 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے اور ایک ایسے وقت میں صوبے کی باگ ڈور سنبھالی جب سیاسی عدم استحکام، مرکز و صوبے کی کشمکش اور ادارہ جاتی دباؤ اپنے عروج پر تھا۔

میاں منظور احمد وٹو کے دورِ وزارتِ اعلیٰ کو اگر ترقیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ اْن کا فوکس بڑے بڑے نمائشی منصوبوں کے بجائے انتظامی استحکام اور جاری ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل پر تھا۔ اس دور میں پنجاب میں سڑکوں کی بہتری، دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات، صحت اور تعلیم کے بعض منصوبوں کو آگے بڑھایا گیا۔ اگرچہ ان کا دور مختصر رہا، تاہم صوبائی بیوروکریسی کو فعال رکھنا اور ترقیاتی عمل کو تعطل سے بچانا اْن کی ترجیحات میں شامل تھا۔

ان کے قریبی حلقوں کے مطابق میاں منظور احمد وٹو مشاورت پر یقین رکھتے تھے اور اضلاع کی سطح پر ترقیاتی کاموں کی نگرانی کو اہم سمجھتے تھے۔ بلدیاتی اور ضلعی نظام کو متحرک رکھنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔ سیاسی محاذ آرائی کے باوجود اْن کے دور میں روزمرہ انتظامی امور کو چلانے پر خاص توجہ دی گئی، جو اْس وقت کے غیر یقینی سیاسی ماحول میں ایک بڑا چیلنج تھا۔

میاں منظور احمد وٹو کی سیاست صرف اْن کی ذات تک محدود نہ رہی بلکہ اْن کا خاندان بھی عملی سیاست اور ریاستی نظم و نسق میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اْن کی صاحبزادی عائشہ منظور وٹو اس وقت ڈائریکٹر جنرل پیمرا پنجاب کے اہم عہدے پر فائز ہیں، جہاں وہ الیکٹرانک میڈیا کے نظم و ضبط اور ریگولیٹری امور کی نگرانی کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں۔ اسی طرح اْن کی دوسری صاحبزادی جہاں آرا منظور وٹو پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی میں وائس چیئرپرسن کے منصب پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور صوبے میں سماجی تحفظ، فلاحی منصوبوں اور کمزور طبقات کے لیے پالیسی سازی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وٹو خاندان نے مختلف ادوار میں عوامی خدمت، انتظامی امور اور پالیسی سازی کے شعبوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ میاں منظور احمد وٹو کی وراثت محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاستی اداروں اور سماجی شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو کی کل اولاد سات افراد پر مشتمل ہے۔ ان کے صاحبزادوں میں خرم جہانگیر وٹو، جہاں زیب وٹو، جناح زیب وٹو، معظم وٹو اور ذیشان وٹو شامل ہیں، جبکہ صاحبزادیوں میں عائشہ منظور وٹو، جہاں آرا منظور وٹو اور روبینہ شاہین وٹو شامل ہیں۔ خرم جہانگیر وٹو عملی سیاست میں بھی متحرک رہے اور 2013 سے 2018 تک حلقہ PP-193 (اوکاڑہ-IX) سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ بطور ایم پی اے انہوں نے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی اور حلقے کے عوامی مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کیا۔ یہ تمام افراد کسی نہ کسی سطح پر سماجی، انتظامی یا نجی شعبوں سے وابستہ رہے اور اپنے والد کی سیاسی و سماجی وراثت کے امین سمجھے جاتے ہیں۔

میاں منظور احمد وٹو کے سیاسی سفر کی ایک نمایاں خصوصیت اْن کی لچک اور حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت تھی۔ 1985 سے 1993 تک وہ پاکستان مسلم لیگ میں رہے، بعد ازاں مسلم لیگ جونیجو، مسلم لیگ جناح اور مسلم لیگ (ق) کا حصہ بنے۔ 2008 میں انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی اور طویل عرصے تک پارٹی کے سینئر رہنما کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2018 میں وہ مختصر مدت کے لیے تحریک انصاف میں بھی شامل رہے، تاہم 2020 کے بعد انہوں نے دوبارہ پیپلزپارٹی میں واپسی اختیار کی، جو اْن کے سیاسی کیریئر کا آخری اور اہم مرحلہ ثابت ہوا۔

ناقدین اْن کی جماعتی وابستگیوں میں تبدیلی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں کئی ادوار ایسے آئے جہاں سیاسی بقا اور اثر پذیری کے لیے مشکل فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو نے ان حالات میں بھی اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھی اور ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ رہے۔
بطور وزیراعلیٰ پنجاب اور ایک سینئر سیاست دان، وہ نرم گفتار، معاملہ فہم اور سیاسی جوڑ توڑ کو سمجھنے والے رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اْن کے انتقال سے نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ مجموعی طور پر پنجاب کی سیاست ایک تجربہ کار آواز سے محروم ہوگئی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو کی زندگی اور سیاسی سفر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سیاست محض اقتدار کا نام نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بدلتے حالات میں خود کو منوانے کا فن بھی ہے۔ وہ اپنے پیچھے تجربات، کہانیاں اور سیاسی تاریخ کا ایک پورا باب چھوڑ گئے ہیں۔ آج جب میاں منظور احمد وٹو ہم میں موجود نہیں رہے تو اْن کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاست محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ وقت، حالات اور قومی مفاد کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھنے کا نام ہے۔ وہ ایک ایسے سیاست دان تھے جو اختلاف کے باوجود نظام سے جڑے رہے، اور جن کی سیاسی وراثت آج بھی انتظامی اور سماجی اداروں میں خدمات کی صورت زندہ ہے۔ پنجاب کی سیاست میں اْن کا نام ایک عہد، ایک تجربے اور ایک مسلسل جدوجہد کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔