چیف منسٹر کا ویژن، جدید پاکستان‘ الیکٹرک گاڑیوں کا سفر شروع

محمد ندیم بھٹی
لاھور گلبرگ کی روشن اور دلکش شام میں ایم جی سٹی موٹرز کی جانب سےEV جدید  نئی تیز  ترین طرز U9 الیکٹرک و ڈیزل گاڑیوں کی لانچنگ تقریب صرف ایک کار شو نہیں تھی، بلکہ یہ اْس سوچ،  اور اْس مستقبل کی جھلک تھی جسے آج کا پاکستان معاشی، تکنیکی اور ماحولیاتی اعتبار سے اختیار کرنا چاہتا ھ?ے۔  محترم  وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن، ایم جی سٹی موٹرز کے سی ای او انجینیئر عباس علی خان اور سینئر صحافی محمد ندیم بھٹی کی جانب سے اس شاندار تقریب کا افتتاح دراصل اْس نئے سفر کی علامت تھا جس میں پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ دنیا کے معیار کو نہ صرف چھونا بلکہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا عزم رکھتا  ہے۔تقریب میں شریک آٹو ایکسپرٹس، بڑے کاروباری افراد، نوجوان ٹیکنالوجی لورز اور مخصوص کار شوقینوں کا جذبہ اس بات کی گواھی دے رھا تھا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل روشن ھے۔ یہ صرف ایک گاڑی نہیں، بلکہ ایک ٹرینڈ، ایک سوچ اور ایک راستہ ھے جو ترقی، بچت، صاف ماحول اور نئی معیشت کی طرف لے جاتا ھے۔ U9 گاڑی کے اسمارٹ انٹیرئیر، سیفٹی سسٹم، اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی اور ہائی پرفارمنس کا جو براہِ راست ڈیمو دیا گیا اْس نے حاضرین کو حیران کر دیا۔ پہلی مرتبہ کئی لوگوں نے یہ جانا کہ ایک مکمل الیکٹرک گاڑی کس قدر طاقتور، خاموش، تیز اور ماحول دوست ھو سکتی ھے۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے  اپنی تقریر  میں کہا  جدید آٹوموبائل ٹیکنالوجی کا فروغ صوبے میں سرمایہ کاری کے ساتھ روزگار، مقابلے کے نئے مواقع اور معاشی سرگرمیوں کو بڑھا رھا ھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے، بیٹری ٹیکنالوجی کو اپنائے اور حکومتی سطح پر مضبوط تعاون فراہم کیا جائے تو پاکستان کی آٹو انڈسٹری نئی بلندیوں کو چھو سکتی ھے۔ دنیا تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف جا رھی ھے اور پاکستان اس دوڑ میں شامل ھونے کا حوصلہ رکھتا ھے۔ حکومت ٹیکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانے، ٹیکس مراعات دینے، درآمدی ڈیوٹیز کم کرنے اور صنعتکاروں کے لئے سہولتیں پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے رھی ھے۔
ایم جی سٹی موٹرز کے سی ای او انجینئر عباس علی خان نے تقریب میں بتایاکہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل اس وقت  بہت مضبوط ھوگا جب صارفین کو معیاری گاڑیاں مناسب قیمت پر دستیاب ھوں گی۔ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ایم جی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی تیاری کے لئے نہ صرف منصوبہ بندی کر رھی ھے بلکہ پرزہ جات کی لوکل مینوفیکچرنگ پر بھی سنجیدگی سے کام کیا جا رھا ھ?ے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ھے ک پاکستان درآمدی انحصار سے نکل کر خودکفالت کی طرف بڑھے تاکہ صارفین کو کم قیمت، معیاری اور جدید ترین گاڑیاں دستیاب ھوں۔چیف گیسٹ سینئر صحافی محمد ندیم بھٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اسموگ فری اور سموک فری سٹی ویژن کو مستقبل کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لاھور جیسے بڑے شہروں میں اسموگ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رھا ھے اور اگر حکومت ماحول دوست پالیسیوں کو مناسب انداز میں آگے بڑھائے تو الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ آلودگی کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ھے۔ U9 جیسی بیٹری پر چلنے والی گاڑیاں اس ویڑن کے عین مطابق ھیں اور مستقبل کے پاکستان کی حقیقی ضرورت بھی یہی ھے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھنے سے نہ صرف اسموگ کم ھوگی بلکہ صحت، معاشی سرگرمیوں اور شہری زندگی کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔
ایونٹ کے دوران کمپنی کے صدر انجینئر عباس علی خان، آور معاونیں مظہر بھٹی، محمد عمر اور زبیر ضیا سے بیٹری ٹیکنالوجی، کار کی طاقت، اسمارٹ فیچرز، مارکیٹنگ حکمت عملی اور سیلز کے بعد کی سروس کے بارے میں خصوصی گفتگو ھوئی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی صارف اب تیزی سے  جدت بدل رھا ھے۔ اب لوگ صرف گاڑی نہیں لیتے بلکہ ٹیکنالوجی، سیفٹی، فیول بچت اور کم مینٹیننس کو ترجیح دیتے ھیں۔ الیکٹرک گاڑیاں ان تمام خصوصیات پر پوری اترتی ھیں اور یہی وجہ ھے کہ آنے والے وقت میں ان کی مانگ کئی گنا بڑھ جائے گی۔
پاکستان کی معیشت کے لئے الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی تیاری ایک سنہری موقع ھے۔ اگر یہ صنعت پاکستان میں مضبوط بنیادوں پر کھڑی ھو جائے تو اربوں ڈالر کی درآمدات کی بچت ممکن ھے۔ نوجوانوں کے لئے اس شعبے میں ٹیکنیکل اسکلز، آر اینڈ ڈی، بیٹری ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ کے بے شمار روزگار کے مواقع پیدا ھو سکتے ھیں۔ دنیا کے بڑے ممالک نے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے آٹو انڈسٹری کو ستون بنایا، اور آج پاکستان کے پاس بھی وھی موقع موجود ھ?ے۔
اسی لئے پاکستانی ضرورت کے پیشِ نظر اگر اس ٹیکنالوجی کو مورِس گیج کی طرز پر دنیا کی جدید، سستی اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی کے ساتھ مقامی سطح پر تیار کیا جائے تو یہ نہ صرف گاڑی کی قیمت کم کرے گا بلکہ عام آدمی کی دسترس میں بھی لائے گا۔ اگر پاکستان بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرک موٹرز، سافٹ ویئر اور پرزہ جات کی تیاری میں سرمایہ کاری کرے تو یہ شعبہ آنے والے صرف پانچ برسوں میں ملکی معیشت کا سب سے مضبوط پہیہ بن سکتا ھے۔ جس سے انفلیش می کمی لازم پہلو ھے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا سموگ فری شہر کا ویژن کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے معیار کا ویڑن ھے۔ یہ صرف کاغذوں پر لکھی پالیسی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ایک شکل ھے۔ اگر حکومت الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر سبسڈی دے، چارجنگ اسٹیشنز کا جال بچھائے، انڈسٹری کے لئے خصوصی پیکیجز دے اور مینوفیکچرنگ یونٹس کو آسانی فراہم کرے تو پاکستان نہ صرف آلودگی کے خلاف جنگ جیت سکتا ھے بلکہ معاشی ترقی کی دوڑ میں بھی آگے بڑھ سکتا ھے U9 کی لانچ صرف ایک گاڑی کا ایونٹ نہیں بلکہ یہ علامت ھے کہ پاکستان کا  یہ جدید سفر محترمہ  مریم نواز  کی پاکستان کی عوام سے بے حد محبت اور  جدید ٹیکنالوجی، صاف ماحول، کم لاگت اور پائیدار ٹرانسپورٹ کی سمت میں شروع ھو چکا ھے۔ اگر یہی رفتار برقرار رھی تو آنے والے چند سالوں میں پاکستان کی سڑکیں ماحول دوست، خاموش، اسمارٹ اور عالمی معیار کی الیکٹرک گاڑیوں سے آباد ھونے لگیں گی۔اور پاکستان  آلودہ  ترین ۔ماحول کے شہروں کی خطرناک  رہنکنگ سے نکل جائے گا یہ سفر مشکل ضرور ھ?ے لیکن ناممکن نہیں۔ اگر حکومت، صنعت، سرمایہ کار اور عوام ایک سمت سوچیں تو ترقی کی یہ منزل قریب ھے۔
صاف اور جدید پاکستان کا یہ سفر U9 سے نہیں بلکہ اْس سوچ سے شروع ھوتا ہے کہ ہمیں اپنے آنے والے بچوں کو ایک بہتر، محفوظ، صحت مند اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ماحول دینا ھے۔ یہی سوچ اس تقریب میں ہر شریک فرد کے چہرے پر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ لاھور کی شام 
میں U9 کی روشنی دراصل اْس پاکستان کی روشنی تھی جو صاف بھی اور جدید بھی ھے اور آگے بڑھنے کے لئے تیار بھی۔