محمد ندیم بھٹیپنجاب میں منشیات کے خلاف جاری مہم محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ایک فکری، سماجی اور اخلاقی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ھے۔ یہ وہ جنگ ھے جس کا مقصد صرف جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ نوجوان نسل کو تباھی کے راستے سے ہٹا کر ایک محفوظ اور روشن مستقبل کی طرف لے جانا ھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے جب اس ویڑن کا اعلان کیا کہ پنجاب کو منشیات سے پاک کیا جائے گا تو یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اب ریاست روایتی انداز سے ہٹ کر عملی اور سخت اقدامات کرے گی۔ آج پنجاب میں منشیات فروشوں کے خلاف ہونے والی کارروائیاں اسی عزم اور وڑن کا عملی اظہار دکھائی دیتی ہیں۔
فیصل آباد جو پاکستان کا صنعتی دل سمجھا جاتا ھے، یہاں منشیات جیسے ناسور نے طویل عرصے سے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی تھیں۔ گنجان آباد علاقے، صنعتی زون اور تعلیمی اداروں کے اطراف میں منشیات فروش عناصر نے نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے نہ صرف معاشرتی بگاڑ کو جنم دیا بلکہ کئی خاندانوں کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ ایسے میں ایک منظم اور مؤثر حکمت عملی کی اشد ضرورت تھی تاکہ آنے والی نسلوں کو اس تباہ کن لعنت سے بچایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ھوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کیں کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی جائے۔ ان ہدایات کے بعد فیصل آباد پولیس نے ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی کارروائیاں شروع کیں اور عملی میدان میں نمایاں نتائج سامنے آنے لگے۔ حکومت کی یہ پالیسی صرف بیانات تک محدود نہیں رھی بلکہ اس کے اثرات عملی سطح پر محسوس کیے جانے لگے۔
اس پورے آپریشن میں آر پی او فیصل آباد ریجن سہیل اختر سکھیرا کی قیادت کلیدی حیثیت رکھتی ھے۔ ان کی زیر نگرانی پولیس نے نہ صرف بڑے منشیات فروش نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا بلکہ ان کے سہولت کاروں تک بھی رسائی حاصل کی۔ جدید انٹیلی جنس، مسلسل نگرانی اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے ذریعے کئی خطرناک گروھوں کو قانون کے شکنجے میں لایا گیا۔ یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے شہریوں کے اندر اعتماد بحال کیا کہ ریاست اب واقعی حرکت میں آ چکی ھے۔
سہیل اختر سکھیرا کی قیادت میں پولیسنگ کے انداز میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف گرفتاریاں کافی نہیں بلکہ منشیات کی سپلائی چین کو مکمل طور پر توڑنا ضروری ھے۔ اسی سوچ کے تحت مختلف علاقوں میں مسلسل چھاپے مارے گئے، منشیات کی بڑی کھیپیں برآمد ھوئیں اور کئی منظم گروہ ختم کیے گئے۔ ان کارروائیوں نے جرائم پیشہ عناصر کے لیے زمین تنگ کر دی اور قانون شکن عناصر کو واضح پیغام دیا کہ اب ان کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رھی۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ھے کہ منشیات فروش گروہ ہمیشہ معاشرے کے کمزور طبقات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو وقتی لالچ اور جھوٹی آسائشوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ ایک بار جب نوجوان اس لعنت میں مبتلا ھو جائیتو نہ صرف اس کی زندگی متاثر ھوتی ھے بلکہ اس کا پورا خاندان مشکلات کا شکار ھو جاتا ھے۔ کئی گھرانے معاشی تباہی، ذہنی اذیت اور سماجی مسائل کا شکار ھو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس ناسور کے خاتمے کے لیے صرف پولیس کارروائی نہیں بلکہ سماجی شعور بھی ضروری ھے۔
پنجاب حکومت نے اس بات کو سمجھتے ھوئے آگاہی مہمات کا آغاز کیا۔ تعلیمی اداروں، مذہبی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے نوجوانوں کو نشے کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی یہ پیغام دیا گیا کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور ان کی سرگرمیوں سے باخبر رہیں۔ معاشرے کے ہر فرد کو اس جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ھوگا کیونکہ منشیات کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ھے۔
منشیات کے خلاف مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لیے آر پی او فیصل آباد ریجن کی جانب سے ایک اہم اور قابلِ تحسین اعلان بھی سامنے آیا۔ منشیات فروشوں کے بارے میں مصدقہ اطلاع فراہم کرنے والے شہری کے لیے 25 ہزار روپے نقد انعام مقرر کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو اس قومی مشن کا حصہ بنانا اور جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی کے لیے شہریوں کی حوصلہ افزائی کرنا ھے۔ یہ اعلان اس حقیقت کا مظہر ھے کہ معاشرے کے دشمنوں کے خلاف کامیابی اسی وقت ممکن ھے جب عوام اور پولیس ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ھوں۔
فیصل آباد میں پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ھوا۔ شہریوں نے معلومات فراہم کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کے نتیجے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ھوئیں۔ یہ بات اس حقیقت کو ثابت کرتی ھے کہ جب ریاست اور عوام ایک ساتھ کھڑے ھوں تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ھے۔ عوامی تعاون نے پولیس کو ایسے مقامات اور نیٹ ورکس تک رسائی دی جہاں روایتی ذرائع سے پہنچنا آسان نہیں تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پولیس اصلاحات پر بھی خاص توجہ دی جا رھی ھے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، تھانوں کی بہتری اور پولیس اہلکاروں کی تربیت جیسے اقدامات نے مجموعی نظام کو مزید مؤثر بنایا ھے۔ اس کے مثبت اثرات فیصل آباد میں واضح طور پر نظر آ رھے ہیں جہاں پولیس نہ صرف جرائم کے خلاف متحرک ھے بلکہ عوامی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار دکھائی دیتی ھے۔
آر پی او فیصل آباد ریجن نے اپنے افسران کو یہ واضح ہدایت دی کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے اس مضبوط مؤقف نے پولیس فورس میں ایک نئی روح پیدا کی۔ نتیجتاً نہ صرف جرائم میں کمی آئی بلکہ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ھوا۔ ایک کامیاب پولیس افسر کی پہچان صرف جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ھے جس میں عام شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔
یہ مہم صرف گرفتاریوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک محفوظ معاشرہ تشکیل دینا ھے۔ نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا، انہیں تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور ان کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا اس حکمت عملی کا اہم حصہ ھے۔ اگر نوجوان نسل کو درست سمت فراہم کر دی جائے تو منشیات فروشوں کے لیے اپنی جڑیں مضبوط کرنا ممکن نہیں رہتا۔
آج فیصل آباد کے شہری جس سکون اور اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں وہ انہی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ھے۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پر امید نظر آتے ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی محسوس کی جا رھی ھے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں فیصل آباد منشیات کے خلاف کامیاب ماڈل کے طور پر سامنے آ سکتا ھے۔
منشیات کے خلاف یہ جنگ دراصل پاکستان کے مستقبل کی جنگ ھے۔ اگر نوجوان نسل کو محفوظ بنا لیا جائے تو ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ھو سکتا ھے۔ یہی وجہ ھے کہ یہ مہم محض ایک وقتی کارروائی نہیں بلکہ ایک مستقل اصلاحی عمل ھے۔ قوموں کی ترقی کا راز ان کے نوجوانوں میں پوشیدہ ھوتا ھے اور نوجوانوں کو نشے سے بچانا دراصل مستقبل کو محفوظ بنانا ھے۔
آنے والے دنوں میں توقع کی جا رھی ھے کہ یہ اقدامات مزید تیز ھوں گے اور پنجاب بھر میں منشیات کے مکمل خاتمے کی طرف پیش رفت جاری رھے گی۔ ایک محفوظ، صحت مند اور پْرامن پنجاب ہی ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد ھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا ویڑن اور فیصل آباد میں جاری عملی اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر قیادت مخلص، پالیسی واضح اور ادارے متحرک ہوں تو مشکل سے مشکل چیلنج پر بھی قابو پایا جا سکتا ھے۔ آج ضرورت اس امر کی ھے کہ معاشرے کا ہر فرد اس مشن کا حصہ بنے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک ایسے پاکستان میں سانس لے سکیں جو منشیات، جرائم اور سماجی برائیوں سے پاک ھو۔