محمد نوید مرزا
لینن کا نام دنیا کے عظیم انقلابی رہنما اور محنت کش طبقے کے ترجمان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔روس کے اس نامور کامریڈ نے محنت کشوں ،مظلوموں اور غلام ذہن رکھنے والوں کو نہ صرف زندگی کو بہادری سے گذارنے کا شعور دیا بلکہ انھیں یہ باور بھی کرایا کہ انسان کی ترقی و خوشحالی کے لئے سوشلسٹ انقلاب ضروری ہے۔تاریخ دان لینن کو انقلاب روس کے بانی کے طور پر یاد رکھتی ہے۔لینن نے کارل مارکس کے فلسفے کی عملی شکل کو دنیا کے سامنے رکھا۔
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے اپنی شہرہء آفاق نظم۔۔۔لینن۔۔۔خدا کے حضور میں اسے بھر پور خراج تحسین پیش کیا ہے۔اس نظم میں اقبال نے لینن کی شعوری و فکری سوچ کو شعری انداز میں قلم بند کیا ہے اور وہ خدا کے حضور شکوہ کرتے ہوئے فریاد کناں ہوئے ہیں نظم کے آخر میں اقبال کہتے ہیں۔۔۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہء مزدور کے اوقات
یعنی اے خدائے عظیم و برتر تو ہر چیز پر قادر ہے،تو عادل ہے مگر اس جہان میں تیرے عام بندے اور مزدور طبقہ بڑی مشکل میں گرفتار ہے۔
اقبال کے بعد اگر کسی نے اپنی شاعری میں لینن کے نظریات کو مدنظر رکھتے ہوئے محروم طبقے کے لئے سوالات اٹھائے ہیں تو وہ ڈاکٹر خیال امروہوی ہیں۔وہ ایک اور انداز میں لینن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔۔۔
وقت کو ایسے جہاں ہمت کی پیہم تھی تلاش
جس کی ٹھوکر سے یکایک قصر غم ہو پاش پاش
فکر انسانی مفکر کے لئے بے تاب تھی
آگہی باوصف صد اسباب بے اسباب تھی
نارسائی کو رسائی کا ہنر درکار تھا
خواجگی کو انتظار جرآت خوددار تھا
سرد جذبوں میں ضروری تھا حرارت کا نفاذ
محو کیوں ہوتا نہ اک دن فرق محمود و ایاز
گنگ صدیوں کو ملا جس فرد سے حسن کلام
ناتواں لمحات کو ملتا گیا وصف خرام
یہ اس طویل نظم سے چند منتخب اشعار ہیں۔ڈاکٹر خیال امروہوی ایک انقلابی سوچ رکھنے والے معروف شاعر اور دانشور تھے۔ان کی اس شاہکار نظم۔۔۔لینن۔۔۔کا تجزیاتی مطالعہ معروف ادیب جناب جسارت خیالی نے بڑی محنت،عرق ریزی اور خوبصورتی سے کیا ہے۔ان کے یہ تنقیدی کام لائق تحسین ہے۔بقول جناب سید عامر سہیل،،جسارت خیالی کا یہ کام بلاشبہ بہت اہمیت کا حامل ہے خاص طور پر ان حالات میں یہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے جس عہد میں ہم زندہ ہیں۔سرمایہ دارانہ مکر و فریب کے اس جال میں جہاں بہت سے اہل قلم اپنے قلم کی حرمت کھو بیٹھے ہیں وھاں جسارت خیالی نے آج مروجہ اور مقبول عام افکار سے ہٹ کر ادب اور زندگی کے رشتے کو از سر نو زندہ کرنے کی سعی کی ہے،،
ڈاکٹر خیال امروہوی ترقی پسند سوچ کے حامل دانشور تھے ،انھوں نے اپنی نظم میں بھی فرسودہ نظام اور استحصالی طبقے کو نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے لینن کے نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ شاہکار نظم تخلیق کی ہے۔نظم کا تجزیاتی جائزہ لیتے ہوئے جناب جسارت خیالی لکھتے ہیں،،سوشلزم ایسا سماجی نظام ہے جس کی اساس معاشی مساوات ہے۔اس میں پیدا واری ذرائع سماج کی مشترکہ ملکیت ہوتے ہیں۔اس تناظر میں سوشلسٹ تحریکات کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں نہ صرف انقلابات آئے تھے بلکہ سائنسی سوشلزم کی روشنی میں دیگر ممالک میں بھی مستفید ہونے کی تمنا کرنے لگے تھے۔وظن عزیز میں پہلی مرتبہ سید سبط حسن جیسے مارکسسٹ کی کتاب،،موسی سے مارکس تک،،منظر عام پر آئی تھی جس نے نئی نسل کو نہ صرف متاثر کیا تھا بلکہ فکری مغالطوں سے بھی بچایا تھا۔
اس کے بعد مارکسی دانشور ڈاکٹر خیال امروہوی نے سوشلسٹ آگہی،سوشلزم اور عصری تقاضے جیسی فکر انگیز کتب دیں بلکہ اپنی انقلاب آفریں شاعری کے ذریعے اس نظام کے لئے زندگی بھر کوشاں بھی رہے ،،
میں ذاتی طور پر ڈاکٹر خیال امروہوی کی اس نظم کا خوبصورت تجزیہ کرنے پر جناب جسارت خیالی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آخر میں ناصر ملک کی رائے پیش کر کے اجازت چاہتا ہوں۔۔۔
جسارت خیالی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے استاد ڈاکٹر خیال امروہوی کی شاعری محض نعرہ بازی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ فکری عمل ہے جو انسانی مساوات ،سماجی مساوات اور طبقاتی شعور کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔اس تناظر میں نظم ،لینن،،ایک علامت بن کر سامنے آتی ہے۔۔۔