بحرین کیساتھ دیرینہ تعلقات پر فخر‘قازقستان کیساتھ مزید شراکت داری چاہتے ہیں آصف زرداری

 پاکستان اور بحرین کے تعلقات باہمی احترام، اخوت اور مشترکہ اقدار پر قائم ہیں،  مختلف شعبوں میں تعاون اور عالمی فورمز پر قریبی ہم آہنگی قابلِ قدر ہے‘ عوامی روابط کو مزید فروغ دے کر دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا
سی پیک کے ذریعے قازقستان کے ساتھ تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں،  1991 میں منظور کیا گیا قانونِ آزادی قازقستان کی خودمختاری کا ایک تاریخی سنگِ میل ہے: صدر کے دونوں ممالک کے قوم دن پر  علیحدہ علیحدہ پیغامات 
 قوم معصوم بچوں کی قربانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی، اے پی ایس کے متاثرہ خاندانوں کے حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں، شہدا کی یاد ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے:آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کی برسی پرپیغام
اسلام آباد(آئی این پی)صدرِ مملکت  آصف علی زرداری نے بحرین کے قومی دن اور قازقستان کے 34ویں یومِ آزادی کے موقع پر دونوں برادر ممالک کی قیادت، حکومتوں اور عوام کو مبارکباد پیش کی ہے ۔بحرین کے قومی دن پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے شاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ، بحرینی حکومت اور عوام کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بحرین کے ساتھ مضبوط، مستحکم اور دیرینہ تعلقات پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات باہمی احترام، اخوت اور مشترکہ اقدار پر قائم ہیں، جبکہ مختلف شعبوں میں تعاون اور عالمی فورمز پر قریبی ہم آہنگی قابلِ قدر ہے۔صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی روابط کو مزید فروغ دے کر دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔انہوں نے بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی بحرین کی معیشت اور ثقافت میں موثر کردار ادا کر رہی ہے۔صدر مملکت نے بحرین کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کیلئے  نیک تمنائو ں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دینے کیلئے پرعزم ہے۔ دریں اثنا  قازقستان کے 34ویں یومِ آزادی پر اپنے  ایک علیحدہ  پیغام میں صدر مملکت نے قازقستان کی قیادت اور عوام کو دلی مبارک باد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ 1991 میں منظور کیا گیا قانونِ آزادی قازقستان کی خودمختاری کا ایک تاریخی سنگِ میل ہے، جبکہ قازق قوم کا سفر استقامت، جدوجہد اور مسلسل ترقی کی روشن مثال ہے ‘صدر آصف علی زرداری نے   ژیلتوکسان مظاہروں کو آزادی کے لیے عوامی عزم کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات مشترکہ اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔انہوں نے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی میں قازقستان کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ تجارت، توانائی اور علاقائی روابط کے شعبوں میں باہمی تعاون مضبوط ہو رہا ہے۔۔ دریں اثنا آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کی 11 ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے اے پی ایس شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم معصوم بچوں کی قربانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی، اے پی ایس کے متاثرہ خاندانوں کے حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں، شہدا کی یاد ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین سے کوئی نرمی نہیں ہوگی، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی بات چیت ممکن نہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہیں، پاکستان دشمن عناصر کو بے نقاب کرتا رہے گا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، ہر  دہشت گرد اور سہولت کار کا پیچھا کیا جائے گا، امن کے دشمنوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔