امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 20 جنوری تک اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو حماس پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ٹرمپ نے نیتن یاہو کو یقین دہانی کرائی کہ وہ 20 جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی کے معاملے کو دیکھیں گے۔ فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر منصب سنبھالنے تک اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے نہیں پایا، تو اس کا نتیجہ خوشگوار نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے حماس کو سخت لہجے میں کہا کہ وہ پہلے ہی انہیں آگاہ کرچکے ہیں کہ 20 جنوری سے پہلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے، ورنہ حماس کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حماس اور اسرائیل غزہ جنگ بندی معاہدے کے قریب ترین مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ جوبائیڈن انتظامیہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ وہ ٹرمپ کی مداخلت سے قبل ہی جنگ بندی معاہدے پر فریقین کو راضی کرنے میں کامیاب ہوجائے تاکہ اس کا سہرہ ٹرمپ نہ لے سکیں۔