ٹرمپ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پیدائشی امریکی شہریت کے خاتمے کا اعلان

ٹرمپ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پیدائشی امریکی شہریت کے خاتمے کا اعلان

امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم اور متعدد بیانات میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ 20 جنوری 2017 کو عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی قوانین میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کریں گے، جن میں سب سے اہم تبدیلی پیدائشی امریکی شہریت کا خاتمہ ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، غیر قانونی تارکین وطن کے لیے امریکی سرزمین پر بچوں کی پیدائش کو شہری حقوق دینے کا عمل، غیر قانونی امیگریشن کو فروغ دینے کا باعث بن رہا ہے، جسے وہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔

امریکا کی 14ویں ترمیم کے تحت، کسی بھی شخص کا جو امریکا میں پیدا ہوتا ہے، امریکی شہریت حاصل کرنا یقینی ہے، چاہے اس کے والدین کی حیثیت غیر قانونی ہو۔ 1898 میں امریکی سپریم کورٹ کے کیس "یونائیٹڈ اسٹیٹس بمقابلہ وونگ کم آرک" میں اس اصول کی وضاحت کی گئی تھی، جس نے اس بات کو تسلیم کیا کہ امریکا میں پیدا ہونے والے بچے کو شہریت کا حق ہے۔ تاہم، ٹرمپ اور ان کے حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ 14ویں ترمیم کے "دائرہ اختیار" کے حصے کو دوبارہ تشریح کی ضرورت ہے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو شہریت نہ ملے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو ایک ایگزیکٹو آرڈر یا قانون سازی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک تجویز کے مطابق "برث رائٹ سٹیزن شپ ایکٹ 2021" نامی ایک بل ہے جس میں 14ویں ترمیم میں تبدیلی کی کوشش کی جائے گی تاکہ صرف قانونی طور پر موجود والدین کے بچوں کو شہریت دی جائے۔یہ مسئلہ امریکی سیاست میں ایک متنازعہ معاملہ رہا ہے، جس پر مختلف قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ اس تبدیلی کے لیے ٹرمپ کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ 14ویں ترمیم کے تحت شہریت کے اس حق کو ختم کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔