مذاکرات کے لیے حکومت کی سنجیدگی ضروری ہے:عمر ایوب

مذاکرات کے لیے حکومت کی سنجیدگی ضروری ہے:عمر ایوب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ ابھی تک کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں اور جب تک حکومت سنجیدہ نہیں ہوگی، مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔

 وہ راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں 9 مئی کے مقدمات کی سماعت کے دوران میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔عمر ایوب کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے کسی بھی فریق سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے لیے حکومت کی سنجیدگی ضروری ہے، اور جب تک حکومت سنجیدہ نہیں ہوگی، پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔اس سے قبل پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت شاید یہ سمجھ رہی ہے کہ پی ٹی آئی کمزور پڑ گئی ہے، اسی لیے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت کا رویہ انتہائی بچگانہ ہے اور اس سے پارٹی قیادت مایوس ہو چکی ہے۔ شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت نے حکومت کو مذاکرات کا موقع دینے کی درخواست کی تھی لیکن حکومت نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کی وجہ سے پی ٹی آئی نے سول نافرمانی کی تحریک کا لائحہ عمل مؤخر کیا تھا، اور اگر مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھتا تو پارٹی قیادت کی جانب سے لائحہ عمل کا اعلان کیا جا سکتا ہے، جس کا نقصان ملک کو ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت میں حکومت ذمہ دار ہوگی۔شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے اور اگر حکومت سنجیدہ مذاکرات کی طرف نہیں آئی تو پی ٹی آئی کو اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔