گلبرگ، مزنگ،کینال روڈ، ڈیال،ہائوس ،شاہدرہ اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں کوڑے کے ڈھیر کئی دن تک پڑے رہتے ہیں
مچھروں اور دیگر کیڑوں مکوڑوں کی افزائش ہو رہی ہے‘بدبو کے باعث قریبی رہائشیوں اور گزرنے والوں کو مشکلات کا سامنا
لاہور(شہزاد راجپوت)وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے شہریوں کو بہتر نظام زندگی فراہم کرنے کے لیے ستھرا پنجاب مہم کا آغاز کیا گیا جسے چند ماہ میں صفائی کی بڑی لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے ناکام بنا دیا۔لاہور میں صفائی کا بحران ستھرا پنجاب مہم پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔لاہورکو پاکستان کا دل اور ثقافتی مرکز مانا جاتا ہے۔جسے حالیہ دنوں میں صفائی کی بدترین صورتحال کا شکار ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں گندگی کے ڈھیر اور ناقص کچرا اٹھانے کا نظام شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے جو کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ستھرا پنجاب مہم کے باوجود لاہور کی گلیاں اور سڑکیں گندگی سے بھرپور ہیں۔ جس سے حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ صفائی کے ناقص انتظامات کے سبب نہ صرف ماحول بدبودار ہو گیا ہے بلکہ بیماریاں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ گلبرگ، مزنگ،کینال روڈ، ڈیال،ہائوس ،شاہدرہ اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں کوڑے کے ڈھیر دنوں تک اٹھائے نہیں جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مچھروں اور دیگر حشرات کی افزائش ہو رہی ہے۔ایک مقامی رہائشی کا کہنا تھا کہ ہر روز کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پڑا رہتا ہے، بچے بیمار ہو رہے ہیں اور حکومت صرف دعوے کر رہی ہے۔ستھرا پنجاب مہم کا مقصد پنجاب کے تمام شہروں کو صاف ستھرا بنانا ہے مگر لاہور جیسے بڑے شہر میں اس مہم کی ناکامی نمایاں ہو چکی ہے۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) کے مطابق صفائی کے عملے کی کمی، ناکافی مشینری اور شہریوں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اس بحران کے بڑے عوامل ہیں۔تر۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صفائی کے مسئلے کا حل جدید نظام اپنانے، شہریوں میں آگاہی بڑھانے، اور حکومتی سطح پر مزید سرمایہ کاری سے ممکن ہے۔ عوام کو کوڑا کرکٹ کے لیے مخصوص مقامات پر ڈمپنگ کی ترغیب دینا اور کچرا ری سائیکل کرنے کے منصوبے شروع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔صفائی کے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جائے تاکہ کچرا اٹھانے کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جا سکے۔عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے شہریوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے۔مقامی حکومتوں کو مزید خودمختاری اور بجٹ دیا جائے تاکہ وہ مؤثر اقدامات اٹھا سکیں۔کچرا ری سائیکلنگ پلانٹس کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ گندگی کم ہو اور وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو۔لاہور کی صفائی کے مسائل ستھرا پنجاب مہم کی شفافیت اور عملدرآمد پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف شہریوں کی صحت بلکہ لاہور کی ثقافتی شناخت کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عوام اور حکومت دونوں کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔