طلعت بٹ
پاکستان 77 سال کا ہو گیا. ایٹم ہے، فوج ہے، زرخیز زمین ہے، نوجوان ہیں. پھر بھی ورلڈ بینک کے مطابق 40 فیصد سے زائد لوگ خطِ غربت سے نیچے ہیں. سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے. سوال یہ ہے کہ جو ہے اسے ہم استعمال کیوں نہیں کر پا رہے؟ غربت صرف ایک مسئلہ ہی نہیں، بلکہ نظام کی ناکامی ہے. جس ناکامی کو ختم کرنے کے لیے کبھی کسی نے اسمبلی میں یا کسی پلیٹ فارم پر اواز نہیں اٹھائی. کوئی سرمایہ دار بھی ملکی مفاد میں اس ملک میں فیکٹری، کارخانے یا انڈسٹری لگانے کے لیے نہیں سوچتا، جس سے اس ملک کی غریب عوام اگے بڑھنے کے قابل ہو سکے. دوسری طرف انصاف میں تاخیر مختلف جرائم کو جنم دیتی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے. جہاں میرٹ نہ ہو وہاں کوئی نوجوان محنت نہیں کرتا. اور پیسہ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ یا درمیانی راستہ ڈھونڈتا ہے. ہماری عدالتیں 90 دن میں فیصلہ دیں. میرٹ پر نوکریاں ہوں تو کوئی شک نہیں کہ یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور ہر انسان خوشحال زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے گا. جب انصاف وقت پر ملے گا تو دوسری دنیا کے لوگوں کی توجہ سرمایہ کاری کے لیے ہمارے ملک پر مرکوز ہوگی. فیکٹریاں لگیں گی، اور غریب کے گھر کا چولہا جلے گا اور ترقی کے راستے خود بخود کھل جائیں گے. اسی لیے نینسن منڈیلا نے کہا تھا کہ غربت کو ختم کرنے کے لیے امداد نہیں بروقت انصاف کی فراہمی سب سے اہم جز ہے. بھیک سے کبھی بھی غربت نہیں مٹتی، ہمیشہ کسی بھی ملک کی عوام کے ہاتھ میں ہنر سے مٹتی ہے. لہذا ہمیں ہر بچے کو ڈگری کے ساتھ سات جدید دنیا کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے نئے دور کے تقاضوں کہ عین مطابق جدید ہنر سکھانے پر زور دینا ہوگا. اور ہر شہر ہر گاؤں اور ہر یونین کونسل میں ایک ٹیکنیکل کالجز، یونیورسٹیز، ائی ٹی انسٹیٹیوٹس، پلمبنگ، زراعت، سلائی. کے لیے پراجیکٹ پر کام کرنا ہوگا. تب جا کر 12 سال کی تعلیم + 1 ہنر وہ نسخہ ثابت ہوگا جس سے چین، کوریا، جاپان اور بہت سے ممالک نے فائدہ اٹھایا. اور بہت سے دوسرے ممالک نے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا. دوسری طرف پاکستان کی 60 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے. کسان آج بھی پرانے طریقے اور مہنگی کھاد سے لڑ رہا ہے. کسانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق سہولیات کی فراہمی مثلا سستا بیج، بر وقت پانی کی فراہمی، اور دراز سے متعلق گائیڈ لائن پر لیکچر. فصل کا منافع بخش ریٹ. کسان کو بینک سے براہِ راست بلا سود قرض. آڑھتی نظام کا خاتمہ. ان سب عوامل سے جس دن کسان خوشحال ہوا، اس دن ملک کی 70 فیصد غربت خود ختم ہو جائے گی. ہمارے ہاں ہر سال جو اربوں روپے کا ترقیاتی بجٹ عوامی ترقی کے نام پر خرچ کیا جاتا ہے جو بے سود ثابت ہوتا ہے. یہی بجٹ اگر غریب نوجوان نسل کو سامنے رکھتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کو سامنے رکھتے ہوئے ٹیکنیکل تعلیم پر خرچ کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ ایک غریب سے غریب ملک بھی ان تمام چیزوں کو اپنانے کے بعد ترقی نہ کرے. ہر منصوبے کا حساب پبلک ویب سائٹ پر ہونا چاہیے. کرپشن کے کیس 6 ماہ میں نمٹائے جائیں. سخت سزا فوری سزا سے زیادہ جرائم کے خلاف زود اثر ثابت ہوتی ہے. جو پیسہ کرپشن کے ذریعے اشرافیہ کی تجوریوں کی نظر ہو جاتا ہے. وہی پیسہ غربت جیسے موزی مرض کی دوا ثابت ہو سکتا ہے. اکثر حکومتیں میگا پراجیکٹس کو ہی ترجیح دیتی ہیں جن سے غریب عوام کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا. چھوٹے روزگار اور فری لانسر پراجیکٹ پر بھی حکومت کو توجہ دینی
چاہیے.
5 لاکھ تک بلا سود قرض، ایک کھڑکی پر رجسٹریشن، 3 سال ٹیکس چھوٹ، ترقی کا سبب بن سکتی ہے. پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں صرف ترجیحات کی کمی ہے. جس دن پاکستان میں غریب اور امیر کا بچہ بھی ایک ہی سکول میں جائے گا اور امیر کا بچہ بھی سرکاری ہسپتال میں علاج کروائے گا، سمجھیں اس دن ہم نے غربت کو شکست دے دی، غریب کو خیرات نہیں، موقع چاہیے اور وہ موقع دینا ریاست کی ذمہ داری ہے.