ّسعدیہ بشیر
تعلیم کا سفر اب محض کتابوں تک محدود نہیں رہا۔یہ سوچ، تحقیق اور تخلیق کے در کھولنے کا نیا عہد ہے۔تعلیم اگر معاشرے کی تعمیر کا بنیادی ستون ہے تو امتحانی نظام اس عمارت کی بنیاد۔ اگر امتحانات شفاف نہ ہوں تو میرٹ، قابلیت اور محنت سب کچھ پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پنجاب میں امتحانی اصلاحات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف اور وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایات پر چیئرمین ٹاسک فورس برائے تعلیمی اصلاحات مزمل محمود بنیادی مسائل کی تشخیص اور علاج کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ کا آغاز کر چکے ہیں۔جن سے نہ صرف امتحانی نظام جدید خطوط پر استوار ہو چکا ہے۔ بلکہ اس میں شفافیت، اعتماد اور میرٹ کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں نقل مافیا کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ جو برسوں سے نظام تعلیم پر بدنما داغ بنے ہوئے تھے۔سوالاتی مواد کے لیے "ڈیٹا بینک" کی تیاری اس بات کی غماز ہے کہ اب پرچہ سازی ایک سائنسی اور منظم بنیاد پر ہوگی۔ جہاں ہر سوال طلبہ کے Student Learning Outcomes (SLOs) کے مطابق ہوگا۔ اس مقصد کے لیے پرچہ سازوں کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی تاکہ امتحانات کا معیار بین الاقوامی سطح سے ہم آہنگ ہو سکے۔
ان مراحل میں کیمبرج، AQA گلوبل، آکسفورڈ اور گوگل جیسے عالمی اداروں سے اشتراک اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب اب تعلیم کے میدان میں عالمی معیار کے حصول کی سمت بڑھ رہا ہے۔ جماعت پنجم اور ہشتم کے امتحانات کی بحالی ایک دوررس فیصلہ ہے جو طلبہ کی بنیاد مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ تعلیم کے ذریعہ سماج کی تربیت کے حوالے سے نفسیاتی و اخلاقی بیداری پر بھی کام شروع ہو چکا ہے۔ تعلیم و تربیت کے ضمن میں نوجوان نسل کی تخلیقی صلاحیتیں مستقبل کی کامیابی کی کنجی ہیں۔ پنجاب حکومت کے ‘‘تعلیم دوست’’ وڑن کے تحت شروع کیے گئے STEAM Competitions 2025 اس عزم کا عملی مظاہرہ ہیں۔ جہاں طلبہ کو جدید مہارتوں کی بنیاد پر سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی کے امتزاج کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا گیا ہے۔بلا شبہ یہ پنجاب میں وزیر اعلی مریم نواز شریف اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کے وڑن کی ترویج ہے۔خاص طور پر چیئرمین برائے ٹاسک فورس مزمل محمود کی نگرانی اور کاوشوں سے عالمی معیار کی شمولیت اور تعاون خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔بین الاقوامی سطح پر یونیسف(UNICEF ) , گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن (GPE) کی شراکت داری و مشاورت اور PMIU-PESRP اور سکول ایجوکیشن کے تعاون سے یہ پیغام دور رس مثبت نتائج کا حامل ہے کہ تعلیم در حقیقت تحقیق، اختراع اور تخلیقی سوچ کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے۔
باہمی اشتراک سے ان مقابلہ جات کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔جو ایک مختصر مگر پراثر پیغام دیتی ہے۔ کہ پنجاب میں تعلیم صرف نصابی نہیں۔ بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس، اور ریاضی (STEAM) کے امتزاج سے تخلیقی سوچ کی نئی دنیا قائم کی جا رہی ہے۔ان مقابلہ جات کا مقصد و منتہا صرف یہ نہیں کہ طلبہ اپنے ماڈلز، منصوبوں اور اختراعی تصورات کے ذریعے ذہانت اور مہارت کا مظاہرہ کریں گے بلکہ یہ مقابلہ جات تعلیم میں تربیت کی عملی ٹریننگ کی ورکشاپ ہیں۔جو طلبہ کے اعتماد میں مددگار ثابت ہو گا۔ میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ شفاف مقابلہ جات کے لیے کمیٹیوں کو جانچ اور اسکورنگ کے منصفانہ نتائج کی ہدایات کی گئی ہیں۔یہ ویڈیو محض ایک اشتہار نہیں بلکہ ایک تعلیمی عہد نامہ ہے۔ کہ آئندہ نسل علم کو تجربے، مشاہدے، اور تخلیق کے ساتھ جوڑے گی۔
اشتہارات میں مناظر اور رنگین انداز میں نوجوانوں کی توانائی، جدت پسندی اور تجزیاتی سوچ کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ یہ مقابلہ جات طلبہ کی مہارتوں، ماڈلز، اور تخلیقی خیالات کو نکھارنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ جب طلبہ اپنے منصوبوں اور اختراعات کے ذریعے اپنی قابلیت کا اظہار کرتے ہیں، تو وہ سیکھنے کے عمل میں سرگرمی، لگن اور جذبے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ اس طرح کے تجربات انہیں مستقبل میں پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان اصلاحات سے یہ پیغام مزید مضبوط ہوتا ہے کہ پنجاب میں تعلیم کا نیا دور عملی اور تخلیقی تعلیم پر مبنی ہے۔۔" پڑھو گے تو بڑھو گے’’ کا نعرہ پڑھائی کی اہمیت اور محنت کے حقیقی نتائج کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہیں۔ اس نعرہ میں حقیقی تحقیق کا پیغام نمایاں ہے۔یہ تصور خوش آئند ہے کہ
‘‘STEAM Competitions 2025’’ محض ایک تعلیمی
پروگرام نہیں، بلکہ جدید تعلیمی وڑن کی علامت ہے۔ یہ پیغام نوجوان نسل کے لیے تحرک کا سبب ہے کہ علم اور تخلیق کے امتزاج سے ہی ہم حقیقی ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔ طلبہ نئے آئیڈیاز پیدا کریں اور اپنی تخلیقی توانائی کو موثر انداز میں آگے بڑھائیں۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف کی زیر نگرانی سپیشل ٹاسک برائے تعلیمی اصلاحات کے چئیرمین مزمل محمود کے یہ نئے اقدامات ایک روشن، تخلیقی اور شفاف تعلیمی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ جو آنے والے برسوں میں ہمارے نوجوانوں کو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر کامیاب بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔یہ تمام اصلاحات اور انتظامی تبدیلیاں ایک نئے تعلیمی وڑن کا مظہر ہیں۔ ایسا وڑن جو محنت، دیانت اور میرٹ کو اصل معیار بناتا ہے۔ پنجاب کے اس اصلاحی سفر نے یہ پیغام دیا ہے کہ جب نیت خالص ہو اور قیادت مخلص، تو تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کرنا کوئی خواب نہیں۔ بلکہ ایک روشن حقیقت ہے۔پنجاب میں تعلیم کا نیا دور محض روایتی امتحانات سے آگے بڑھ کر عملی، تحقیقی اور تخلیقی تعلیم پر مبنی ہے۔
STEAM Competitions 2025’’ محض ایک مقابلہ نہیں
بلکہ تعلیمی انقلاب کی علامت ہے۔جو نوجوان نسل کو پیغام دیتا ہے کہ تعلیم نمبروں کے کھیل سے زیادہ سوچنے، بنانے، اور بدلنے کا ہنر ہے۔
سعدیہ بشیر