عتیق چوہدری
ٹی ایس ایلیٹ اپنی شاہکار نظم ’’دی ڈرائی سالوے جز‘‘میں انسانیت کو ایک ابدی پیغام دیتے ہوئے کہتا ہے کہ "اے مسافرو! الوداع نہیں بلکہ آگے بڑھو"۔ بظاہر یہ ایک مختصر جملہ ہیلیکن اپنے اندر اْمید، ہمت اور جہدِ مسلسل کا ایک وسیع جہان سموئے ہوئے ہے۔ یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی ٹھہرنے کا نہیں بلکہ بہتے رہنے کا نام ہے۔ زندگی میں کامیابی و کامرانی کا دارومدار سراسر اس بات پر ہے کہ انسان زندگی کے کٹھن ضابطوں اور اصولوں کو سمجھے اور مصائب کے طوفانوں کا سینہ تان کر مقابلہ کرے۔کامیابی کوئی منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ اس کٹھن سفر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے کیونکہ جس اندھیرے کو ہم منزل کا خاتمہ سمجھ بیٹھتے ہیں عین ممکن ہے کہ وہی صبحِ صادق کا آغاز ہو۔ ٹی ایس ایلیٹ جو کہ ایک عظیم شاعر اور ڈرامہ نگار تھا وہ سال میں بہت کم لکھتا تھا لیکن اس کی خواہش ہوتی تھی کہ اس کا ہر لفظ ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہو۔ اس نے میدانِ جنگ میں موجود سپاہیوں اور زندگی کے مسافروں کو یہی نصیحت کی کہ گزرے ہوئے لمحات کو الوداع کہہ کر بیٹھ نہ جاؤ بلکہ مستقبل کی وسعتوں میں گم ہو جاؤ۔ایلیٹ کے فلسفے میں "تاریخی شعور" کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تاریخی شعور کا مطلب یہ نہیں کہ ماضی کی یادوں میں قید ہو جایا جائے، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ماضی کو حال کے تناظر میں زندہ دیکھا جائے اور اس سے حاصل ہونے والے تجربات کو مشعلِ راہ بنایا جائے۔ وہ کہتا ہے کہ ماضی سے فرار ممکن نہیں لیکن ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر نئے عزم اور ہمت کے ساتھ منزل کی جانب بڑھنا ہی دانشمندی ہے۔ جب ایک سال رخصت ہوتا ہے تو وہ اپنے ساتھ تلخ و شیریں یادوں کا ایک دفتر چھوڑ جاتا ہے، لیکن نئے سال کی آمد ہمارے کانوں میں یہ سرگوشی کرتی ہے کہ: اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔ 2025 تلخ و شیریں یادوں کے ساتھ ختم ہونے والا ہے اور نیا سا ل2026 شروع ہونے کو ہے یہ نیا سال ہمیں محض تواریخ کی تبدیلی کا پیغام نہیں دیتا بلکہ یہ ہمیں خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ کیا ہم نے دستیاب وقت سے فائدہ اٹھایا یا اسے فضول کاموں میں گنوا دیا؟ قدرت ہمیں ہر سال 12 ماہ، 365 دن اور لاکھوں سیکنڈز بطور امانت عطا کرتی ہے۔ یہ وقت ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کی قدر کرنے والا ہی دنیا میں سرخرو ہوتا ہے۔ میر حسن نے وقت کی اسی اہمیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔سدا عیشِ دوراں دکھاتا نہیں، گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں اسی طرح وقت ضائع کرنے والوں کے لیے دوکر راہی کا یہ انتباہ بہت اہم ہے کہ جو وقت کو برباد کرتے ہیںوقت ایک دن انہیں برباد کر کے چھوڑ دیتا ہے۔مشہور امریکی مصنفہ میلوڈی بیاٹی کہتی ہیں کہ نیا سال ہماری زندگی کی کتاب کے ایک نئے باب کی طرح ہے جس کے صفحات ابھی کورے ہیں اور جن پر ہمیں اپنی داستانِ حیات خود لکھنی ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان صفحات پر کامیابی کی تحریر لکھتے ہیں یا ناکامی کا نوحہ۔ سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کا قول ہے کہ مستقبل کی پیشگوئی کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے خود تخلیق کیا جائے۔ علامہ اقبال نے بھی ہمیں یہی درس دیا کہ حالات کا ماتم کرنے کے بجائے "نیا زمانہ، نئی صبح و شام" پیدا
کرنے کی تگ و دو کرنی چاہیے۔کامیابی کے لیے ایک واضح روڈ میپ اور منصوبہ بندی ضروری ہے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ ہماری منزل کیا ہے؟ ہمارے وسائل کیا ہیں؟ اور ہمارے اہداف کے حصول میں کیا رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں؟ کیا ہم حالات کے رحم و کرم پر ہیں یا ہم میں وقت کے دھارے کو موڑنے کا حوصلہ موجود ہے؟ نارمن ونسینٹ پیل اپنی شہرہ آفاق کتاب میں لکھتے ہیں کہ مشکل حالات ہمیشہ نہیں رہتے لیکن مضبوط لوگ ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ مضبوط لوگ وہ ہیں جو تلخ حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہیں مگر کبھی ناامید نہیں ہوتے۔نیلسن منڈیلا، جنہوں نے اپنی زندگی کے 27 قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے کہتے ہیں کہ ہر کام اس وقت تک ناممکن نظر آتا ہے جب تک کہ وہ مکمل نہ ہو جائے۔ نپولین بوناپارٹ کی ڈکشنری میں بھی ناممکن کا لفظ موجود نہیں تھا۔ زندگی میں سب سے مشکل کام پہلا قدم اٹھانا ہوتا ہے جب انسان عزمِ مصمم کے ساتھ پہلا قدم اٹھا لیتا ہے تو راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کے مطابق انسان کی سب سے بڑی خطا یہ ہے کہ وہ اپنی اصل ترجیحات کو نظر انداز کر کے غیر ضروری کاموں میں الجھ جاتا ہے اور جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تب تک وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کی ناکامیوں، دکھوں اور اپنوں کی بے وفائیوں کو پسِ پشت ڈال کر لمحہ موجود میں جینا سیکھیں۔ ظفر اقبال نے کیا خوب کہا ہے: چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں، دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے افلاطون کا ماننا تھا کہ کسی بھی کام کا آغاز اس کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے ارادہ کرنا ہی نصف کامیابی ہے۔پریشانیوں سے نجات کے لیے ڈیل کارنیگی کا "طلسماتی فارمولا بہت کارگر ہے،اپنے آپ سے پوچھیں کہ بدترین نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟ اسے قبول کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جائیں اور پھر اس بدترین کو بہترین میں بدلنے کی کوشش شروع کر دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو فطرت کے قریب ہونا چاہیے۔ انگریزی شاعر جان کیٹس اور ولیم ورڈز ورتھ نے فطرت کے حسن میں سکون تلاش کیا۔ شیلے (Shelley) کے نزدیک انسانی آزادی ہی تمام برائیوں کا علاج ہے۔ ہمیں اپنی سوچ اور فکر کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنا ہوگا۔شیکسپیئر نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو اپنے ڈراموں میں سمو دیا ہے۔ اس کے نزدیک یہ دنیا ایک سٹیج ہے جہاں ہر انسان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جو اپنے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور ساتھ ہی استقامت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ میر حسن کہتے ہیںوقت کی گردشوں کا غم نہ کرو، حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں۔مایا اینگلو کا مشورہ ہے کہ اگر کوئی چیز پسند نہیں تو اسے بدل دیں اور اگر بدل نہیں سکتے تو اپنا رویہ بدل لیں۔ ہمیں حالات کا رونا رونے کے بجائے خود کو اس قابل بنانا ہوگا کہ حالات ہمارے موافق ہو جائیں۔ ہر تاریک رات کے بعد سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔ فیض احمد فیض نے اسی لیے کہا تھا: دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے، لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔الیزبیتھ سیول کی نظم "New Year Resolutions" ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نیا سال خود احتسابی اور خود شناسی کا سال ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی خامیوں پر تنقیدی نگاہ ڈالنی ہوگی اور اپنی کمزوریوں کو اپنی طاقت میں بدلنا ہوگا۔ اگر ہم حالات کا گلہ کرنے کے بجائے اپنے حصے کی شمع روشن کریں گے تو نہ صرف ہماری زندگی بدلے گی بلکہ یہ ملک اور معاشرہ بھی حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔