پاکستان میں معاشی استحکام برقرار ‘ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا آئی ایم ایف

مضبوط معاشی پالیسیاں اور گہری ساختی اصلاحات کا تسلسل، پائیدار معاشی ترقی کے حصول اور عوام کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کیلئے نہایت ضروری ہیں:ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا
آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا، ترقی پذیر ممالک قرضوں کے دبائو کا شکار، سرمایہ کاری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے:وفاقی وزیر خزانہ
واشنگٹن(آئی این پی ) عالمی مالیاتی  فنڈ(آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی اصلاحات اور معاشی استحکام کی تعریف کی ہے۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران پاکستان کی معاشی اصلاحات میں پیش رفت کو سراہا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام پر موثر عملدرآمد کے باعث معاشی استحکام برقرار رکھنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا تھا  مضبوط معاشی پالیسیاں اور گہری ساختی اصلاحات کا تسلسل، پائیدار معاشی ترقی کے حصول اور عوام کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کیلئے نہایت ضروری ہیں‘دریں اثناء وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے  آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، ایگزیکٹیو بورڈ سے منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے، مشرقِ وسطی کا بحران حالیہ تاریخ کے بڑے ترین سپلائی شاکس میں سے ایک ہے، ترقی پذیر ممالک قرضوں کے دبائو  کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے ان کی سرمایہ کاری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں کے موقع پر باروررز پلیٹ فارم کے اجرا کی تقریب میں شرکت کے موقع پر وفاقی وز  محمد اورنگزیب کا کہنا  تھا  کہ بڑی تعداد میں ترقی پذیر ممالک شدید قرضہ جاتی دبائو  کا شکار ہیں جہاں بلند شرح سود اور عالمی مالیاتی حالات میں سختی کے باعث ان کی ترقی اور پائیدار نمو کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اگرچہ داخلی اصلاحات نہایت اہم ہیں اور ان پر عملدرآمد جاری ہے تاہم عالمی مالیاتی نظام میں موجود ساختی رکاوٹیں قرض لینے والے ممالک کے لیے دستیاب پالیسی گنجائش کو محدود کر رہی ہیں۔انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ باروررز پلیٹ فارم ایک دیرینہ خلا کو پر کرتا ہے، کیونکہ قرض لینے والے ممالک کے پاس ایسا کوئی مخصوص فورم موجود نہیں تھا جہاں وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کر سکیں، ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کر سکیں اور اپنے اجتماعی موقف میں ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔