پاکستان میں صفائی کا عالمی معیار اور ماحولیاتی انقلاب

غلام مرتضیٰ باجوہ
صفائی نصف ایمان ہے، اور یہ محض ایک مذہبی اصول نہیں بلکہ سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داری بھی ہے۔ گھر، محلہ، شہر اور صوبے کی صفائی میں ہر شہری کا کردار لازم ہے، لیکن اس میں حکومت اور مقامی اداروں کی مؤثر قیادت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں موجودہ حکومت نے صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے میں ایسی اصلاحات متعارف کروائی ہیں جو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی تعریف کے قابل ہیں۔
آج ستھرا پنجاب نہ صرف پاکستان میں سب سے بڑا صفائی منصوبہ ہے بلکہ دنیا بھر کے لئے ایک ماڈل بھی ہے۔ اس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ افراد کو براہِ راست روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں اور ایک نئی مقامی انڈسٹری وجود میں آچکی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے تحت یہ پروگرام ماحولیات، شہری سہولیات، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ملا کر ایک کامیاب مثال بن چکا ہے۔ستھرا پنجاب کا یہ سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر وژن، عزم اور درست حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جائے تو کسی بھی بڑے چیلنج کو موقع میں بدلا جا سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب آج صفائی، ماحولیات اور شہری سہولیات میں ایک ماڈل صوبہ کے طور پر دنیا کے سامنے ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت ’’ستھرا پنجاب پروگرام‘‘ایک منفرد ماڈل کے طور پر سامنے آیا ہے، جو پنجاب کے تمام شہروں اور 25 ہزار دیہات میں روزانہ 50 ہزار ٹن کچرے کو جمع کر کے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پراسیس کرتا ہے۔ اس پروگرام کی کامیابی میں سی ای او لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بابر دین اور سی ای او سیالکوٹ ویسٹ مینجمنٹ کاشف نواز کی انتھک محنت اور دیانتداری کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
یہ پروگرام محض صفائی نہیں بلکہ شہری تربیت، شعور، اور طرزِ زندگی میں بہتری لانے کا بھی ذریعہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب انسپکشن ٹیم کے انچارج آصف محمود نے سیالکوٹ کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے اس پروگرام کے تحت جاری صفائی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور تمام شہری، تاجران اور تعلیمی اداروں کے طلبہ وطالبات سے صفائی کے بارے میں تفصیلاً سوالات کیے۔معروف عالمی جریدے ’’فوربز‘‘ نے ستھرا پنجاب پروگرام کو ‘غیر معمولی، حوصلہ افزا، کامیاب ترین’ اور دنیا کا سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ سسٹم قرار دیا ہے۔ فوربز کی رپورٹ کے مطابق، صرف آٹھ ماہ کے اندر 130 ملین لوگوں کے لیے صفائی کا مربوط نظام قائم کیا گیا، جس میں جدید آئی او ٹی سینسر، جی پی ایس، اور آر ایف آئی ڈی کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کر کے اے آئی کی مدد سے صفائی یقینی بنائی جاتی ہے۔برازیل میں COP30 کانفرنس میں بھی ستھرا پنجاب پروگرام کو صفائی اور کلائمیٹ ایکشن کا بہترین ماڈل پیش کیا گیا۔ اس پروگرام کی کامیابی عالمی سطح پر پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ کر رہی ہے، اور جکارتہ سے لے کر نیروبی تک کے ممالک اس ماڈل سے سبق لے رہے ہیں۔
لاہور کے محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ کا تاریخی مسئلہ، جس میں بڑے کچرے کے ڈھیر اور میتھین گیس کے اخراج کے مسائل شامل تھے، ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت مکمل طور پر تبدیل کیا گیا۔ اس سائٹ پر سولر پارک قائم کیا گیا، 31 ایکڑ رقبے پر شجرکاری کی گئی، اور شہری جنگل، واکنگ ٹریک اور ہریالی کے مناظر پیدا کیے گئے۔ میتھین گیس کو توانائی میں تبدیل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
یہ ماڈل اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، حکمت عملی اور دور اندیشی کے ساتھ کسی بھی ماحولیاتی بگاڑ کو بہتری کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ستھرا پنجاب پروگرام کے دوسرے مرحلے میں ویسٹ ٹو ویلیو اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبے پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ روزانہ 50 ہزار ٹن ویسٹ کو بروئے کار لانے کے منصوبے سے مقامی روزگار، ماحولیات کی بہتری اور پرائیویٹ سیکٹر کے لیے بزنس کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے تمام سی ای اوز کو ہدایت کی ہے کہ ڈمپنگ سائٹس پر کوڑے کی سیگریگیشن کے ذریعے بائی پراڈکٹ تیار کی جائے، تاکہ ویسٹ ٹو ویلیو فیز کے اہداف کامیابی سے حاصل ہوں۔
یہ پروگرام ثابت کرتا ہے کہ موثر سیاسی عزم کے بغیر انتظامی نظام میں نمایاں نتائج حاصل کرنا مشکل ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت نے نہ صرف پنجاب کے شہروں میں صفائی کے جدید نظام قائم کیے بلکہ دیہات تک بھی صفائی کی سہولیات پہنچائی ہیں۔ ایک سال کے اندر 700 جدید ترین ویسٹ منیجمنٹ گاڑیاں اور ایک لاکھ 50 ہزار افراد کی ورک فورس کے ساتھ پورے صوبے میں یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ستھرا پنجاب پروگرام کی کامیابی سے نہ صرف شہری صحت اور ماحولیات بہتر ہوئی ہے بلکہ عالمی ماحولیاتی مباحثوں میں پاکستان کی ساکھ بھی مضبوط ہوئی ہے۔ محمود بوٹی ڈمپنگ سائٹ کی تبدیلی، سولر پارک، شجرکاری، اور AI بیسڈ صفائی کے نظام نے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی اور مستقبل کے لیے ماحول دوست ماڈل فراہم کیا۔
ستھرا پنجاب پروگرام پاکستان میں صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور شہری سہولیات کے حوالے سے ایک تاریخی انقلاب ہے۔ عالمی سطح پر اس پروگرام کی پذیرائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کامیابی کا راز محنت، دیانتداری، جدید ٹیکنالوجی اور دوراندیش قیادت میں مضمر ہے۔ سی ای او لاہور ویسٹ مینجمنٹ بابر دین، سی ای او سیالکوٹ کاشف نواز، وزیر بلدیات ذیشان رفیق اور دیگر اہلکاروں کی انتھک محنت کے باعث یہ پروگرام نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے لیے فخر کا سبب بن چکا ہے۔ستھرا پنجاب نہ صرف ایک پروگرام بلکہ ایک وژن ہے، جو مستقبل میں پاکستان کو صفائی، ماحولیات اور شہری سہولیات کے شعبے میں عالمی معیار کے مطابق ایک ماڈل ریاست کے طور پر متعارف کرائے گا۔