محمد باقر جاوا
انسانی زندگی میں تعلقات اور رشتے سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان اکیلا اپنی زندگی بسر نہیں کر سکتا، وہ ہمیشہ دوسرے انسانوں کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور اسی ضرورت کے تحت تعلقات بنتے ہیں، رشتے پروان چڑھتے ہیں اور دوستیاں قائم ہوتی ہیں۔ مگر یہ دوستی محض دل بہلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، کردار، وقار اور عزت نفس پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ اسی لیے اہلِ دانش اور اہلِ بصیرت ہمیشہ دوستی کے معاملے میں احتیاط برتنے کی تاکید کرتے ہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ قول کہ "ایسے شخص کے ساتھ دوستی کرو جو تمہاری عزت اور سربلندی کا باعث ہو اور ایسے شخص سے دوستی نہ کرو جو اپنے ا?پ کو تمہارے لیے نیک ظاہر کرکے تم سے استفادہ کرنا چاہتا ہے" گویا دوستی کیحوالے سے ایک ابدی رہنما اصول ہے۔ یہ قول ہمیں نہ صرف اچھے اور برے دوست کی پہچان سکھاتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کس طرح ایک نیک اور مخلص دوست انسان کو بلند کرتا ہے اور کس طرح ایک فریب کار دوست انسان کو گمراہ کر دیتا ہے۔زندگی میں اکثر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ بظاہر بہت خوش اخلاق، نرم گفتار اور دین داری یا نیک نیتی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ملتے ہیں۔ وہ اپنی باتوں سے دوسروں کو قائل کرتے ہیں، نرم لہجہ اور میٹھی زبان استعمال کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف مائل ہو جائیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل میں خلوص نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے تعلقات بناتے ہیں۔ ایسے افراد کی صحبت انسان کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔ کیونکہ وہ وقتی طور پر اپنی شخصیت کو نیکوکار ظاہر کرتے ہیں مگر اصل میں وہ صرف دوسروں سے استفادہ کرنے کی نیت رکھتے ہیں۔ ان کی صحبت میں انسان اپنی عزت کھو دیتا ہے، اس کی شخصیت کمزور ہو جاتی ہے اور ا?خر کار وہ ایک ایسے راستے پر چل نکلتا ہے جہاں خسارہ ہی خسارہ ہوتا ہے۔۔۔ اس کے برعکس جب انسان کسی ایسے دوست کا انتخاب کرتا ہے جو واقعی مخلص ہو، جو تمہاری عزت کو اپنی عزت سمجھے، جو تمہاری کامیابی پر خوش ہو اور تمہیں بلند دیکھ کر خوشی محسوس کرے تو ایسا دوست تمہاری شخصیت کو مزید نکھارتا ہے۔ وہ تمہیں وہ حوصلہ دیتا ہے جس کی بدولت تم زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کر سکتے ہو۔ ایک اچھا دوست صرف اچھے وقت کا ساتھی نہیں ہوتا بلکہ مشکل وقت میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ نہ تو تمہاری کمزوریوں کا مذاق اڑاتا ہے اور نہ ہی تمہارے راز کو دوسروں کے سامنے کھولتا ہے۔ اس کے برعکس ایک برا دوست تمہیں اپنی خود غرضی کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ امام جعفر صادق کا یہ قول اسی بنیادی فرق کی طرف توجہ دلاتا ہے۔۔معاشرتی زندگی میں اس قول کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ کسی نے ایک مخلص دوست کے ذریعے عزت کمائی اور کسی نے ایک فریب کار دوست کے ذریعے اپنی ساکھ کھو دی۔ کاروبار میں بھی یہی حقیقت نظر ا?تی ہے۔ ایک مخلص شریک کاروبار تمہاری عزت اور ترقی کا باعث بنتا ہے جبکہ ایک مفاد پرست ساتھی تمہارے سرمایے اور وقار دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسی طرح سیاست کے میدان میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کسی لیڈر کے گرد اگر مخلص رفقاء ہوں تو وہ مضبوطی کے ساتھ عوام کے سامنے کھڑا رہتا ہے لیکن اگر اس کے ساتھ خوشامدی اور مفاد پرست ہوں تو وہ جلد ہی رسوا ہو جاتا ہے۔۔۔یہی اصول ذاتی زندگی میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ ایک اچھا دوست انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے، نیک راہوں کی طرف راغب کرتا ہے اور اس کی تربیت ایسے انداز میں کرتا ہے کہ وہ دوسروں کی نظر میں معزز ہو جائے۔ لیکن اگر کسی انسان کا دوست ایسا ہو جو خود کو نیک ظاہر کرے مگر اندر سے مفاد پرست ہو تو وہ انسان کو گمراہی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔۔دوستی میں سب سے پہلی شرط خلوص ہے۔ اگر خلوص نہیں تو دوستی کے معنی باقی نہیں رہتے۔ ایک مفاد پرست انسان کبھی کسی کا حقیقی دوست نہیں ہو سکتا، وہ صرف وقتی تعلقات قائم کرتا ہے اور جب اس کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو وہ رخصت ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک مخلص دوست کبھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑتا۔ اس کی دوستی وقتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ہوتی ہے۔ وہ تمہیں وہی بات کہتا ہے جو حقیقت پر مبنی ہو چاہے وہ تمہیں بْری لگے۔ یہ ہی اصل خیرخواہی ہے۔ اس کے برعکس ایک مفاد پرست دوست تمہیں ہمیشہ خوش فہمی میں مبتلا رکھتا ہے تاکہ تم اس کے جال میں پھنسے رہو۔ اس کی دوستی تمہیں عزت نہیں بلکہ ذلت کی طرف لے جاتی ہے۔۔ا?ج کل نوجوان اکثر ایسے دوستوں کی صحبت میں ا? جاتے ہیں جو بظاہر بہت نیک اور بااخلاق نظر ا?تے ہیں مگر ان کی اصل نیت خراب ہوتی ہے۔ وہ نشے، برائی اور غلط راستوں کی طرف مائل کرتے ہیں لیکن اپنی باتوں کو خوشنما انداز میں پیش کرتے ہیں تاکہ دوسرے ان کے جال میں پھنس جائیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نوجوان اپنی تعلیم، اپنی شخصیت اور اپنا مستقبل داو? پر لگا دیتے ہیں۔ اگر اس وقت وہ امام جعفر صادق کے قول کو سامنے رکھیں اور سوچ سمجھ کر دوست بنائیں تو ان کی زندگی سنور سکتی ہے۔۔ انسان کو محض ظاہر دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے کردار کو پرکھنا چاہیے۔ ہر وہ شخص جو اپنے ا?پ کو نیک ظاہر کرے لازمی نہیں کہ وہ نیک ہو۔ اصل نیکی کردار اور عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔۔ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اچھے دوست انسان کے لیے دنیا اور ا?خرت دونوں میں فائدہ مند ہوتے ہیں۔ دنیا میں وہ تمہاری عزت بڑھاتے ہیں، تمہیں لوگوں کے سامنے سربلند کرتے ہیں اور مشکلات میں سہارا بنتے ہیں۔ ا?خرت میں بھی ان کی صحبت فائدہ دیتی ہے کیونکہ وہ تمہیں نیک راستوں پر لے جاتے ہیں۔ برعکس اس کے برے دوست نہ صرف دنیا میں نقصان دیتے ہیں بلکہ ا?خرت میں بھی انسان کے لیے وبال بن جاتے ہیں۔ قرا?ن میں بھی ذکر ہے کہ قیامت کے دن انسان کہے گا "کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا"۔ یہ وہی دوستی ہے جس کے پیچھے فریب، خود غرضی اور دھوکہ ہوتا ہے۔۔زندگی کے اس سفر میں ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم کن لوگوں کو اپنے قریب کرتے ہیں۔ کیونکہ ہماری شخصیت انہی تعلقات کا عکس بن جاتی ہے۔ اگر ہم اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں گے تو ہمارے کردار میں نرمی، خلوص اور عزت بڑھے گی۔ لیکن اگر ہم فریب کاروں اور خود غرض لوگوں کے قریب رہیں گے تو ہم بھی انہی جیسے بن جائیں گے۔ امام جعفر صادق کا قول ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ دوستی صرف دل کی خوشی کے لیے نہیں بلکہ یہ ایک سنجیدہ فیصلہ ہے جو ہماری پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ ایسے دوستوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو ہمارے لیے عزت اور سربلندی کا باعث ہوں اور ایسے لوگوں سے بچنا چاہیے جو محض اپنی خود غرضی کے لیے دوستی کا لبادہ اوڑھتے ہیں۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک اچھا دوست انسان کی سب سے بڑی دولت ہے اور ایک برا دوست سب سے بڑی محرومی۔ دنیاوی دولت اور کامیابیاں وقتی ہیں لیکن مخلص دوست کی بدولت انسان کا وقار ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اس لیے امام جعفر صادق کی یہ نصیحت ہمیں اپنی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم اس قول کو اپنا معیار بنالیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی بہتر ہو جائے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی زیادہ خلوص، محبت اور عزت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔