سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
دوسری جانب پاکستان کاسکیورٹی بیانیہ اپنی جگہ واضح اوردوٹوک ہے۔دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن اس امرکی دلیل ہے کہ پاکستان اس مسئلے کومحض سیاسی اورعارضی خطرہ نہیں بلکہ اپنی بقاسے جوڑکردیکھتاہے۔افغان سرزمین کے پاکستان کیخلاف استعمال کامسئلہ محض ایک شکایت نہیں بلکہ ایک دیرینہ خدشہ ہے جودونوں ممالک کے تعلقات پرسایہ فگن رہا ہے جواب ایک مطالبے کی صورت اختیارکرچکاہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کابنیادی نکتہ یہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو یہ مطالبہ دراصل قومی سلامتی کااستعارہ ہے۔
افغانستان کی جانب سے آنے والے مثبت بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ وہ بھی اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ ہے۔امیرخان متقی کے الفاظ میں امیدکی کرن اوراعتدال کی جھلک ملتی ہے کہ معمولی اختلافات اس عمل کی راہ میں دیوارنہیں بنیں گے،جواس امرکاثبوت ہے کہ دونوں فریق اب تصادم کی بجائے تعاون کی راہ پرگامزن ہوناچاہتے ہیں۔یہ بیان دراصل جہاں اس حقیقت کااعتراف ہے کہ اختلافات فطری ہیں،مگران کاحل ہی اصل دانشمندی ہے وہاں افغانستان کی جانب سے مثبت بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ وہ بھی اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ ہے۔امیرخان متقی کے الفاظ میں ایک امیدجھلکتی ہے ،ایسی امیدجواگرعملی اقدامات میں ڈھل جائے توخطے کیلئے ایک نئی صبح کاآغازہوسکتاہے۔
قطرمیں افغان ترجمان سہیل شاہین کامحتاط بیان سفارتی نزاکت کاآئینہ دارہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بارمذاکرات میں فریقین کا رویہ نسبتانرم اورشائستہ رہا،جوخوش آئند تبدیلی کاثبوت ہے کہ دونوں ممالک اب ماضی کی تلخیوں کوپس پشت ڈال کرمستقبل کی طرف دیکھناچاہتے ہیں۔گویاتلخ یادوں کیباوجودمستقبل کی طرف ایک مثبت قدم بڑھایا جا رہا ہے۔
گزشتہ اکتوبرکی کشیدگی اس خطے کی تاریخ کے ناقابل یقین اورافسوس کے وہ اہم لمحات ہیں جب دوبرادرمسلم ممالک کے درمیان دشمن اپنی چالوں میں کامیاب رہااورکشیدگی،فضائی حملے اورجوابی کارروائیوں نے اس خطے کی تاریخ کے وہ ابواب رقم کئے جوخون آلود سطروں سے لکھے گئے۔یہ اس امرکی یاددہانی ہیں کہ جنگ کاراستہ ہمیشہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔یہی تجربہ اب دونوں ممالک کو مذاکرات کی اہمیت کااحساس دلارہاہے۔ یہی پس منظران مذاکرات کومزیداہم بناتاہے،کیونکہ یہ محض حال کانہیں بلکہ ماضی کے زخموں کابھی مداواہیں۔سرحدی بندش اورتجارتی تعطل نے دونوں ممالک کومعاشی اورسماجی سطح پرشدیدمتاثرکیا۔تجارت کارک جانادراصل زندگی کی روانی کارک جانا،عوامی زندگی کیلئے جان لیواثابت ہورہا ہے اوریہی احساس اب دونوں فریقین کومکالمے کی میزتک لے آیاہے اوراب دونوں ممالک اس حقیقت کوتسلیم کررہے ہیں کہ معاشی روابط کوسیاسی اختلافات سے الگ رکھنا ضروری اورناگزیرہے۔
اگرچہ باضابطہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا،مگرسات روزہ مذاکرات اس بات کاثبوت ہیں کہ بات چیت سنجیدگی سے ہوئی۔یہ محض رسمی ملاقاتیں نہیں بلکہ ایک مسلسل مکالمہ تھاجس میں دونوں فریقین نے اپنے مقف کھل کربیان کیے۔یہ محض رسمی نشستیں نہیں بلکہ ایک مسلسل اورگہرامکالمہ تھا۔سات دن کامسلسل مکالمہ اس بات کاثبوت ہے کہ دونوں فریق سنجیدگی سے حل کے متلاشی ہیں۔
پاکستان کامؤقف واضح ہے کہ وہ افغانستان میں موجود شدت پسندگروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی چاہتاہے جوایک عرصہ درازسے دشمن ملک کی پراکسی وارکاآلہ کاربنے ہوئے ہیں اورپاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں نہ صرف ملوث ہیں بلکہ ان حملوں کی مکمل ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔پاکستان کایہ مطالبہ اس کے داخلی امن اوراستحکام سے جڑا ہوا ہے۔اس مسئلے کوحل کیے بغیرکسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔یہ مطالبہ محض سیاسی دبانہیں بلکہ ایک مسلسل تجربے کانچوڑہے اوریہ مطالبہ اس کے داخلی امن سے جڑاہواہے اور اس کے بغیرکسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے پاکستان کامقف نہایت واضح ہے۔اسے دہشتگرد تنظیم قراردینااوراس کے نیٹ ورک کوختم کرنا وہ اقدامات ہیں جواعتماد کی بحالی کیلئے ضروری اقدامات ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے پاکستان کااصراردراصل اس کے داخلی امن کاتقاضاہے۔جنگ بندی اورسرحدپارحملوں کی روک تھام ایسے نکات ہیں جوکسی بھی پائیدارامن کیلئے ناگزیرہیں۔اب اصل کسوٹی عملدرآمدہے۔اگریہ مذاکرات اگلے مرحلے میں اعلی سطح تک پہنچتے ہیں تویہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ ابتدائی بیج نے جڑ پکڑ لی ہے اوریہی ان مذاکرات کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔بصورت دیگریہ بھی ماضی کی ناکام کوششوں کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔دیگرشدت پسند تنظیموں کامسئلہ بھی اسی زنجیرکی کڑیاں ہیں۔جب تک ان عناصرکی سرگرمیاں کم نہیں ہوتیں،اعتمادکی فضامکمل طور پرقائم نہیں ہوسکتی۔ان کی سرگرمیوں میں کمی ہی اس بات کاثبوت ہوگی کہ مذاکرات کامیاب ہورہے ہیں۔
داعش اورالقاعدہ جیسے عناصراس خطے کیلئے مشترکہ خطرہ ہیں۔اگرچہ القاعدہ کی سرگرمیاں محدودہوچکی ہیں،مگرداعش ایک ابھرتا ہواچیلنج ہے جس پردونوں ممالک کومشترکہ حکمت عملی اپناناہوگی۔ان کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ہی دیرپاامن کی ضمانت دے سکتی ہے۔حالیہ دنوں میں حملوں میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے جواس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شاید پس پردہ کچھ پیش رفت ہورہی ہے۔گویا طوفان کے بعدایک ہلکی سی خاموشی،جو کسی بڑے تغیرکا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہے۔شدت پسند عناصرکی نقل مکانی کی اطلاعات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کچھ عملی اقدامات کیے جارہے ہیں،اگرچہ ان کی مکمل تفصیلات واضح طورپرسامنے نہیں آئیں۔افغانستان کامؤقف کہ تجارت کوسیاست سے الگ رکھاجائے، ایک عملی اورمعقول اورحقیقت پسندانہ تجویزہے۔سرحدی راستوں کی بحالی دونوں ممالک کے عوام کیلئے فائدہ منداور زندگی کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
بالآخر، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ نہ پاکستان طویل جنگ کامتحمل ہوسکتاہے اورنہ افغانستان۔امن ہی وہ واحدراستہ ہے جودونوں کو استحکام کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ماضی کی ناکام کوششیں اس بات کی یاددہانی ہیں کہ صرف مذاکرات کافی نہیں،بلکہ نیت،اعتماد اورعمل کاامتزاج انتہائی ضروری ہے۔تحریری ضمانت کامطالبہ اوراس پراختلاف،گزشتہ ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ رہا۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں دونوں فریقین کے درمیان اعتمادکی کمی اوراختلاف واضح اورنمایاں ہوجاتاہے۔پاکستان کا مطالبہ اور افغان طالبان کا مؤقف دراصل دومختلف زاویہ ہائے نظرکی عکاسی کرتے ہیںایک سلامتی کے تناظرمیں سوچتاہے،اوردوسرا خودمختاری اورنظریاتی وابستگی کے پس منظرمیں۔
اورمچی مذاکرات اس طویل داستان کاایک نیا باب ہیں اورچین کی ثالثی نے اس عمل کوایک نئی جہت دی ہے۔اگریہ سلسلہ اسی سنجیدگی سے جاری رہاتوبعید نہیں کہ یہ خطہ،جومدتوں سے اضطراب اوربے یقینی کاشکاررہا ہے،ایک دن امن واستحکام کاگہوارہ بن جائے۔یہ مذاکرات محض سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک امید ہیںاورامید ہی وہ قوت ہے جواگرحقیقت کا روپ دھارلے توتاریخ کادھارابدل دیتی ہے۔