سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ترکی کی دفاعی صنعت کاسفرجدید دنیامیں خودانحصاری،تحقیق اورقومی عزم کی ایک نمایاں مثال بن کرسامنے آتاہے۔ایک وقت تھاجب ترکی اپنی دفاعی ضروریات کیلئے بڑی حدتک بیرونی ذرائع پرانحصارکرتاتھا،مگرمسلسل منصوبہ بندی،ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور مقامی صلاحیتوں کے فروغ نیاسے ایک ایسے مقام پرپہنچادیاہے جہاں وہ نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنیکی کوشش کررہا ہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں ایک اہم برآمدکنندہ کے طورپربھی ابھررہاہے۔یہ تبدیلی محض عسکری پیداوارمیں اضافے کی داستان نہیں بلکہ ایک وسیع تر تزویراتی سوچ کی علامت ہے۔قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے: یعنی اوران کے مقابلے کیلئے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت تیاررکھو۔یہ آیت اس اصول کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ امن، سلامتی اورخودمختاری کے تحفظ کیلئے اقوام کواپنی صلاحیتوں کومضبوط بنانا چاہیے۔ترکی نے اسی تصورکوجدیدتقاضوں کے مطابق اختیارکرتے ہوئے دفاعی تحقیق، مقامی پیداواراورجدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
خصوصاترک ساختہ جنگی ڈرونزنے یوکرین،شام،لیبیااوردیگرتنازعات میں اپنی عملی صلاحیت کامظاہرہ کرکے عالمی سطح پرتوجہ حاصل کی۔ان ڈرونزکی کامیابی نے یہ ثابت کیاکہ جدیدجنگ صرف بڑے پیمانے کی روایتی فوجی طاقت کانام نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت،نگرانی کے نظام اورکم لاگت مؤثردفاعی صلاحیتیں بھی فیصلہ کن کرداراداکرسکتی ہیں ۔ ترکی کی دفاعی صنعت کایہ ارتقاممکنہ سہ فریقی اتحادکیلئے بھی ایک اہم عنصربن سکتاہے،کیونکہ دفاعی تعاون اب صرف فوجی معاہدوں تک محدودنہیں رہابلکہ تحقیق،پیداوار،ٹیکنالوجی کے
تبادلے اورمشترکہ دفاعی منصوبوں تک پھیل چکاہے۔
یوں ترکی کی دفاعی صنعت ایک ایسی تزویراتی قوت میں تبدیل ہورہی ہے جواسے نہ صرف علاقائی سیاست میں زیادہ خودمختارکردار اداکرنے کے قابل بناتی ہے بلکہ عالمی طاقت کے نظام میں بھی ایک بااثرمقام فراہم کرتی ہے۔یہ داستان اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جو قومیں علم،تحقیق اورخود انحصاری کواپناشعاربنالیتی ہیں،وہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اپنی جگہ خودتراش لیتی ہیں۔
دفاعی طاقت کاتعین اب صرف فوجی تعداد،روایتی ہتھیاروں یادفاعی بجٹ کے حجم سے نہیں کیاجاتا،بلکہ جدید دورمیں ٹیکنالوجی، تحقیق،جدت، مقامی پیداواراورخود انحصاری وہ عناصرہیں جوکسی بھی ریاست کی حقیقی تزویراتی قوت کاتعین کرتے ہیں۔اسی تناظر میں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سپری)کی دفاعی صنعت سے متعلق درجہ بندی ترکی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ایک اہم مظہر پیش کرتی ہے۔
’’سپری‘‘کی رپورٹ میں ترک دفاعی کمپنیوں کی شمولیت محض چند اعدادوشمارکا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہری تبدیلی کی علامت ہے۔ اسلسان،بایکاراوردیگرترک اداروں کی عالمی درجہ بندی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ترکی نے دفاعی پیداوار کے میدان میں ایک طویل سفرطے کیاہے اوراب وہ صرف دفاعی ضروریات پوری کرنے والاملک نہیں رہابلکہ عالمی دفاعی مارکیٹ میں ایک ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے طورپر اپنی شناخت قائم کررہاہے۔یہ پیش رفت اس وسیع ترحکمتِ عملی کاحصہ ہے جس کے تحت ترکی نے بیرونی انحصارکو کم کرنے ، مقامی تحقیق کوفروغ دینے اورجدید دفاعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کوترجیح دی ہے۔آج طاقت کامفہوم بدل چکا ہے؛جس ریاست کے پاس جدید ٹیکنالوجی،تحقیقاتی صلاحیت اوردفاعی پیداوارکامضبوط نظام موجودہو،وہ عالمی سیاست میں زیادہ خود مختارفیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہے۔
ترکی کی دفاعی صنعت کایہ ارتقاممکنہ سہ فریقی اتحادکیلئے بھی ایک اہم عنصربن سکتاہے۔دفاعی تعاون کے جدید تصورات میں اب صرف ہتھیاروں کی فراہمی شامل نہیں بلکہ مشترکہ تحقیق،ٹیکنالوجی کی منتقلی،دفاعی پیداواراورصنعتی شراکت داری بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے ترکی کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت اس ممکنہ اتحاد کیلئے ایک’’زبردست بڑھتی ضرب‘‘ثابت ہو سکتی ہے۔یوں سپری کی درجہ بندی محض ایک عالمی فہرست نہیں بلکہ اس بات کاآئینہ ہے کہ ترکی نیدفاعی خودکفالت کے راستے پرچلتے ہوئے اپنی حیثیت کو ایک صارف سے ایک تخلیق کاراوربرآمد کنندہ کی سطح تک بلندکرلیاہے۔یہ تبدیلی نہ صرف ترکی کیلئے اہم ہے بلکہ علاقا ئی طاقت کے نئے توازن میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔اٹلانٹک کونسل کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اتحادگیم چینجرثابت ہوسکتاہے،خاص طورپراگراس میں اقتصادی اورتوانائی کے شعبے بھی شامل ہوجائیں۔اسی طرح کونسل آن فارن ریلیشن نے اسے ایک’’وازنہ سازقوت‘‘قراردیاہے،جو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کوتبدیل کرسکتی ہے مگرکچھ مغربی حلقے اسے تشویش کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں، کیونکہ یہ اتحادمغربی اثرورسوخ کومحدود کر سکتاہے۔
اسلامی تعلیمات میں اتحاد،عدل اورقوت کومرکزی حیثیت حاصل ہے۔اگراس ممکنہ معاہدے کوان اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے تویہ نہ صرف ایک دفاعی اتحادہوگابلکہ ایک اخلاقی وتہذیبی تحریک بھی بن سکتاہے۔یہی وہ پہلو ے جو سے دیگرعالمی اتحادوں سے ممتازکرتاہے۔ہربڑااتحاداپنے ساتھ مواقع اورچیلنجز دونوں لاتاہے۔اس سہ فریقی معاہدے کے سامنے بھی داخلی اختلافات،عالمی دباؤاورعلاقائی پیچیدگیاں جیسے مسائل ہوں گے مگراگر قیادت بصیرت،صبراورحکمت سے کام لے تویہ اتحادایک نئی تاریخ رقم کرسکتا ہے۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ جدہ کی یہ نشست محض ایک وقتی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسے عہدکی تمہیدہے جہاں مسلم دنیااپنی کھوئی ہوئی وحدت کودوبارہ حاصل کرسکتی ہے۔اگریہ معاہدہ کامیاب ہوتاہے تویہ نہ صرف ایک دفاعی اتحادہوگابلکہ ایک فکری بیداری، تہذیبی احیااورسیاسی خودمختاری کی علامت بھی بن سکتاہے۔تاریخ کے اوراق شایدآنے والے برسوں میں اس لمحے کواس عنوان سے یاد کریں گے کہ یہی وہ ساعت تھی جب بکھری ہوئی قوتوں نے ایک مرکزکی تلاش شروع کیاورشاید اسے پابھی لیا۔