سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کبھی محض واقعات کابے جان سلسلہ نہیں ہوتی،بلکہ وہ اپنے دامن میں زمانوں کی سرگوشیاں،تہذیبوں کی کشمکش اورقوموں کے خواب سمیٹے رکھتی ہے۔آج جدہ کے ساحلِ احمر پرجوسفارتی ہلچل برپاہے،وہ کسی رسمی ملاقات کامعمولی منظرنہیں بلکہ ایک ایسے ممکنہ باب کاآغازہے جوآنے والے برسوں میں مسلم دنیاکی تزویراتی سمت کاتعین کرسکتاہے۔ پاکستانی وزیرِاعظم شہبازشریف،فیلڈمارشل عاصم منیر،ترکی کے صدراردوغان اورسعودی عرب کے ولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کاایک ہی میزپرجمع ہوناگویاتاریخ کے دھارے میں ایک نئے سنگِ میل کی نویدہے۔
یہ اجتماع محض شخصیات کاملاپ نہیں بلکہ تین مختلف جغرافیوں،تین قوتوں اورتین تہذیبی روایتوں کاایسااتصال ہے جواگرہم آہنگ ہو جائے تومشرقِ وسطی سے لے کرجنوبی ایشیاتک ایک نئے توازنِ قوت کی بنیادرکھ سکتاہے۔اس منظرکو قرآنِ حکیم کی اس ابدی ہدایت کی روشنی میں دیکھاجائے تواس کی معنویت اوربھی گہری ہوجاتی ہے یعنی اتحادہی قوت ہے اور افتراق کمزوری۔
اگرہم تاریخ کے آئینے میں جھانکیں توخلافتِ راشدہ سے لے کرسلطنتِ عثمانیہ تک مسلم دنیاکی قوت کارازہمیشہ وحدتِ فکراوراشتراکِ عمل میں پوشیدہ رہاہے۔آج کایہ ممکنہ سہ فریقی اتحاداسی گمشدہ روایت کی بازیافت کی ایک سنجیدہ کوشش معلوم ہوتاہے گویاوقت کا پہیہ ایک نئے دائرے میں داخل ہورہاہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ جدہ کایہ لمحہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری سوال بھی ہے:کیامسلم دنیاایک بارپھراپنے منتشراجزاکویکجاکرکیایک مؤثر،باوقاراوربااختیاراجتماعی قوت میں ڈھل سکتی ہے؟
جدہ کا ہ اجتماع بظاہر یک رسمی سفارتی نشست دکھائی دیتا ہے،ا س کے پسِ منظر میں ایک گہری تزویراتی حرکت کارفرما ہے۔ پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے مابین ایک سہ فریقی دفاعی معاہدہ زیرِغورہے،جس کاباضابطہ اعلان اگرچہ ابھی پرد اخفامیں ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس کی بازگشت واضح طورپرمحسوس کی جاسکتی ہے۔یہ ممکنہ معاہدہ محض ایک دفاعی دستاویزنہیں ہوگابلکہ ایک ایسے اتحادکی بنیادرکھ سکتاہے جس میں عسکری طاقت،سیاسی بصیرت اورتزویراتی ہم آہنگی یکجاہوکر ایک مربوط قوت کی صورت اختیارکریں۔اس تناظر میں سفارت کاری اپنی روایتی حدودسے آگے بڑھ کرطاقت کی ایک نئی تعبیرپیش کرتی دکھائی دیتی ہے، جہاں الفاظ کے ساتھ عملی اشتراک اورمشترکہ مفادات کا وزن بھی شامل ہو جاتا ہے۔
مغربی تھنک ٹینکس، خصوصاکارنیگی مڈل ایسٹ سنٹراورچیتھم ہاس اس پیش رفت کوایک ابھرتاہوئے مسلم اسٹریٹجک بلاک کے طور پردیکھ رہے ہیں۔ان کے تجزیات کے مطابق اگر یہ اتحادمکمل صورت اختیارکرلیتاہے تویہ نہ صرف خطے میں امریکی اثرو رسوخ کو متوازن کرنے کی صلاحیت رکھتاہے بلکہ چین اورروس کے ساتھ تعلقات میں بھی نئی جہتیں پیداکر سکتا ہے۔مزید برآں،اس ممکنہ شراکت داری کی نوعیت صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں رہے گی،بلکہ اس میں انٹیلی جنس کے تبادلے،مشترکہ فوجی مشقوں،دفاعی پیداوارمیں اشتراک اوروسیع تر تزویراتی ہم آہنگی جیسے عناصربھی شامل ہوسکتے ہیں۔یوں یہ پیش رفت ایک مکمل سکیورٹی آرکیٹیکچر کی تشکیل کی جانب اشارہ کرتی ہے،جہاں علاقائی استحکام اور خود انحصاری کومرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔یوں جدہ کی یہ ملاقات محض سفارت کاایک مرحلہ نہیں بلکہ ایک ایسے ممکنہ عالمی توازن کی تمہیدہے جس میں مسلم دنیاپہلی بارایک منظم اور بااثر بلاک کی صورت میں ابھرسکتی ہے۔
دفترِخارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان بظاہرمحتاط اورعمومی نوعیت کاحامل ہے،مگراس کے بین السطورمیں ایک گہری تزویراتی معنویت پوشیدہ دکھائی دیتی ہے۔شہباز شریف کے 6سے8اگست تک کے دور سعودی عرب کے دوران علاقائی اورعالمی امورپرگفتگو کا ذکردراصل ایک وسیع ترخاکے کی طرف اشارہ ہے،جہاں دفاعی تعاون او اسٹریٹجک ہم آہنگی مرکزی حیثیت اختیارکرتے نظرآتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کی دنیامیں خاموشی محض غیرموجودگی کلام نہیں بلکہ ایک بامعنی طرزِاظہارہوتی ہے۔اسی تناظر میں قرآنِ حکیم: کی یہ رہنمائی بھی قابلِ غورہے۔اوررحمن کے بندے وہ ہیں جوزمین پرنرمی اورعاجزی کے ساتھ چلتے ہیں،اورجب جاہل لوگ ان سے(سختی یا نادانی سے)مخاطب ہوتے ہیں تووہ کہتے ہیں:سلام۔ گویا حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر بات کو فوری اعلان کا حصہ نہ بنایا جائے، بلکہ مناسب وقت اور موقع کا انتظار کیا جائے۔
یہ سفارتی احتیاط دراصل ایک آزمودہ حکمتِ عملی کی عکاس ہے،جسے مغربی تجزیہ کار’’اسٹرٹیجک ابہام‘‘سے تعبیر کرتے ہیںیعنی ایسی دانستہ ابہامیت جوبڑے منصوبوں کوقبل ازوقت
منظرِعام پر آنے سے محفوظ رکھتی ہے۔سردجنگ کے دوران امریکا اورسوویت یونین کی خفیہ سفارت کاری بھی اسی طرزِعمل کی نمایاں مثال تھی،جہاں بڑے فیصلے خاموشی کے پردے میں ترتیب پاتے اورپھر مناسب وقت پرسامنے آتے تھے۔
تاریخی طور پربھی یہ حقیقت واضح رہی ہے کہ بڑے اتحاد اچانک وجود میں نہیں آتے،بلکہ وہ پہلے فکری سطح پرتشکیل پاتے ہیں،پھر سفارتی تعامل میں ڈھلتے ہیں اوربالآخرعملی صورت اختیارکرتے ہیں۔جدہ کی یہ نشست بھی اسی تدریجی عمل کی ایک اہم کڑی معلوم ہوتی ہے،جہاں خاموشی دراصل آنے والے ممکنہ فیصلوں کی گہرائی اورسنجیدگی کوظاہرکررہی ہے۔ یوں یہ سفارتی سکوت کسی خلا کی علامت نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی ہے جہاں الفاظ سے زیادہ حکمت،اوراعلانات سے زیادہ تیاری کوترجیح دی جارہی ہے۔
یہ ممکنہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی اچانک سیاسی خیال یاوقتی ضرورت کانتیجہ نہیں،بلکہ ایک طویل سفارتی سفر،مسلسل مذاکرات اوربدلتے ہوئے علاقائی حالات کاحاصل ہے۔جنوری میں ترکی کے وزیرِخارجہ خاقان فیدان کی جانب سے ایک جامع پلیٹ فارم کی ضرورت پرزوردینااسی وژن کی ابتدائی جھلک تھی،جواب ایک عملی شکل اختیارکرتادکھائی دے رہاہے ۔پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوارکی جانب سے ایک سالہ مذاکرات کے بعدمعاہدے کے مسودے کی تیاری کی تصدیق اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تصورمحض سفارتی گفتگوتک محدودنہیں رہابلکہ عملی مراحل طے کرچکاہے۔ریاستوں کے درمیان بڑے تزویراتی فیصلے اکثر خاموش سفارتی عمل،مسلسل مشاورت اورتدریجی اعتمادسازی کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں،اوریہی عمل اس ممکنہ اتحادکے پس منظر میں بھی دکھائی دیتاہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجوددفاعی وسلامتی کاتعاون اس نئے بندھن کیلئے ایک مضبوط بنیادفراہم کرتاہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ مجوزہ سہ فریقی معاہدہ کسی نئے سفرکاآغازہی نہیں بلکہ ایک ایسے راستے کی توسیع ہے جس کی بنیادپہلے ہی باہمی اعتماداورمشترکہ مفادات پررکھی جاچکی ہے۔
تاریخ کے صفحات پرنظرڈالیں تومعلوم ہوتاہے کہ معاہدات ہمیشہ صرف سیاسی ضرورت نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات وہ آنے والے ادوار کی سمت متعین کرنے والے تاریخی موڑ ثابت ہوتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ اس کی ایک روشن مثال ہے،جسے اپنے وقت میں بعض لوگوں نے بظاہرایک مشکل سمجھوتہ تصورکیا،مگروقت نے ثابت کیاکہ وہ حکمت،تدبراوردوراندیشی پرمبنی ایک ایسافیصلہ تھا جس نے مستقبل کیلئے نئے امکانات کے دروازے کھول دیے۔اسی تاریخی اصول کے تحت موجودہ دفاعی تعاون کوبھی دیکھاجا سکتا ہے کہ ریاستوں کے درمیان پائیدارتعلقات ایک ہی لمحے میں تشکیل نہیں پاتے بلکہ اعتماد،مشترکہ مفادات اورمسلسل رابطوں کے مراحل سے گزرتے ہوئے مضبوط ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)