لندن / واشنگٹن: برطانوی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے خیراتی ادارے آرچ ویل فاؤنڈیشن نے فلسطین کی حمایت پر مبنی بیانات کے باعث ایک امریکی مسلم تنظیم سے اپنے تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔
اس فیصلے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔آرچ ویل فاؤنڈیشن، جو کہ 2020ء میں ہیری اور میگھن نے قائم کی تھی، نے 2023 سے اب تک ملواکی مسلم ویمنز کولیشن (MMWC) کو دو گرانٹس کی مد میں تقریباً 55 ہزار 700 ڈالرز عطیہ کیے تھے۔
تنازع کی ابتداء
امریکی نشریاتی ادارے Daily Wire نے فاؤنڈیشن کو ایک خط ارسال کیا جس میں بتایا گیا کہ MMWC کی بانی، فلسطینی نژاد امریکی جانان نجیب نے فلسطین کے حق میں متعدد بیانات دیے ہیں۔ اس کے بعد آرچ ویل فاؤنڈیشن نے اعلان کیا کہ وہ اب MMWC کو مزید فنڈز نہیں دے گی۔
جانان نجیب کا مؤقف
جانان نجیب نے گزشتہ سال ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا تھا کہ:"فلسطین پر اسرائیل کا 75 سالہ قبضہ اور غزہ میں جاری نسل کشی ایک سنگین ناانصافی ہے۔"انہوں نے اپنی پوسٹ کے آخر میں مشہور نعرہ "From the river to the sea, Palestine will be free" بھی لکھا، جسے فلسطینی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن اسرائیلی حلقوں میں اسے متنازع اور اشتعال انگیز تصور کیا جاتا ہے۔
آرچ ویل فاؤنڈیشن کا ردعمل
فاؤنڈیشن نے ایک مختصر بیان میں کہا:"ہم کسی بھی ایسی تنظیم کو سپورٹ نہیں کریں گے جس کے مؤقف ہمارے ادارے کے اقدار سے متصادم ہوں۔"یہ بیان سامنے آنے کے بعد ہیری اور میگھن کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر انسانی حقوق کے حامی حلقوں کی جانب سے، جو اس فیصلے کو "سیاسی دباؤ کے تحت لیا گیا فیصلہ" قرار دے رہے ہیں۔
ردعمل اور تنقید
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے فاؤنڈیشن کے اس فیصلے کو "آزادیٔ اظہار پر قدغن" قرار دیا، جبکہ کچھ حلقوں نے اسے اسرائیل نواز جھکاؤ کا ثبوت بھی کہا۔دوسری جانب کچھ صارفین نے اس اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلاحی اداروں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر غزہ میں انسانی بحران پر مسلسل آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اور اسرائیل فلسطین تنازع ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔