فضل الرحمان کا فوجیوں کی قربانی کو تنخواہ کا معاوضہ کہنا اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں،وفاقی وزیر احسن اقبال

فضل الرحمان کا فوجیوں کی قربانی کو تنخواہ کا معاوضہ کہنا اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں،وفاقی وزیر احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی جوانوں کی بے مثال قربانیوں کو محض تنخواہ کا معاوضہ قرار دینا ناانصافی ہے اور یہ نہ اخلاقی تقاضوں کے مطابق ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں احسن اقبال نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرکے پیش کیا گیا، جس سے نہ صرف ان کے بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔انہوں نے کہا کہ فوجی جوان اور افسر محض ایک پیشہ انجام نہیں دیتے بلکہ ہر لمحہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق تنخواہ خدمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، لیکن جان کا نذرانہ کبھی کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔احسن اقبال نے اپنے مؤقف کی تائید میں قرآن مجید کی سورۃ آل عمران کی آیت 169 اور شہادت کی فضیلت سے متعلق ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں شہادت کا مقام انتہائی بلند ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، تاہم شہداء کے مقام و مرتبے سے متعلق گفتگو کرتے وقت ایسے الفاظ سے گریز کیا جانا چاہیے جو شہداء کے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور پوری قوم کے جذبات کو مجروح کریں۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے بھی اپنے پیغام میں شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "شہادت مقصود و مطلوبِ مومن ہے" اور یہ مقام دنیاوی مفادات سے بالاتر ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ ہے اور اس سے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی دل آزاری ہوتی ہے۔وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے مولانا فضل الرحمان سے شہداء کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے بھی اس بیان پر تنقید کا اظہار کیا۔