حدیثِ نبوی اسلامی احکامات اور تعلیمات کا دوسرا بڑا ماخذ

 ندیم ملک 

قرآن مجید کے بعد حدیثِ نبوی اسلامی احکامات اور تعلیمات کا دوسرا بڑا ماخذ ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود قرآن کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اس سے احکام اخذ کرنا اور رضائے الٰہی کے مطابق اس پر عمل کرنا بھی حدیث و سنت کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں لیکن اس کے باوجود بھی بعض گمراہ اور گمراہ گر حضرات حدیث کی حجت و اہمیت کو مشکوک بنانے کی ناکام کوششوں میں دن رات مصروف ہیں اور آئے دن حدیث کے متعلق  طرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا کرتے رہتے ہیں الحمدللہ علمائے امت نے عقل و خرد سے پیدل ان گمراہوں کا خوب تعاقب کیا ہے ان کے بودے اور تارعنکبوت سے بھی کمزور  اعتراضات کے  خوب مدلل و مسکت جوابات دیے ہیں 
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا 
اللہ وہ ہے جس نے ان پڑھوں میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا وہ اللہ کی آیات ان لوگوں  کے سامنے تلاوت کرتا اور ان کا تزکیہ کرتا اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے یقینا یہ لوگ ان سے پہلے صریح گمراہی میں تھے 
امام مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا میں تمھارے سامنے دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے ایک اللہ کی کتاب دوسری  اس کے رسول کی سنت

عبید اللہ ابنِ رافع اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تخت پر براجمان ہو ان کے پاس میرا حکم   آئے تو وہ کہے ہم اسے نہیں جانتے ہمیں تو اللہ کی کتاب سے جو ملے گا اسی کی اتباع کریں گے 
سیدنا ابو ہریرہ کا ارشاد ہے  کہ میں رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں ایک حصے میں آرام کرتا ہوں،دوسرے حصے میں قیام کرتا ہوں جبکہ تیسرے حصے میں رسول اللہ کی احادیث کو دہراتا اور یاد کرتا ہوں
سیدنا سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں ایک ایک حدیث کی تلاش میں کئی کئی دن اور کئی کئی راتیں سرگرداں رہتا تھا اور میں نے دیکھا کہ ابوہریرہ جمعہ کے دن مسجد میں آ کر منبر کا بازو پکڑ کر کھڑے ہوجاتے اور بیان کرتے کہ ابو قاسم اللہ کے سچے رسول تصدیق کیے ہوئے رسول 
نے ہم سے بیان فرمایا وہ اسی طرح کھڑے احادیث بیان کرتے رہتے یہاں تک کہ جب وہ باب المقصورہ  کے کھلنے اور امام صاحب  کے آنے کی اطلاع پاتے  تو بیٹھ جاتے 
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تم میری احادیث نہ لکھا کرو جس نے قرآن کے علاوہ میری احادیث لکھی ہوں وہ ان کو مٹا دے اور تم میری احادیث روایت کیا کرو اس میں کوئی حرج نہیں