تصویر کا دوسرا رُخ

غلام علی

بچپن میں سنا کرتے تھے کہ جب تک لالچی زندہ رہیں گے ٹھگ بھوکے نہیں مریں گے۔زمانہ یونیورسٹی کی بات ہے ہمارے بہت ہی شفیق استاد پروفیسر جی آر پاشا زکریا یونیورسٹی میں لیکچر دے رہے تھے انھوں نے دورانِ لیکچر ایک ایسا واقعہ سنایا جو آج تک شہر یاداشت میں بسا ہے۔ جی آر پاشا صاحب لیکچر اتنا دلچسپ بناتے تھے کہ علم کے پیاسوں کی خواہش ہوتی تھی کہ جی آر پاشا سے پڑھیں۔وہ اپنے موضوع کو لفظوں کی تسبیح بنا دیتے تھے۔ بعض اوقات یونیورسٹی کے دیگر شعبوں کے طالب علم بھی چوری سے پاشا صاحب کے لیکچرمیں آدھمکتے تھے۔ وہ دوران لیکچر اس طرح کے واقعات سناتے کہ طالب علم کی تشنگی بھی پوری ہوتی جاتی اورموضوع میں لگن کا سماں بھی بندھا رہتا۔
ہوتا یوں ہے ایک بس کراچی سے ملتان کے لئے نکلتی ہے اوروہ بس سیٹ بائی سیٹ ہوتی ہے ۔جتنی دیروہشہر میں چلتی رہتی ہے تھوڑا بہت شور شرابا رہتا ہے ۔جیسے ہی شہرکے ہنگامے سے نکلتی ہے توتھوڑی دیر کے بعد بس میں سناٹا سا ہو جاتا ہے اور مسافردھیرے دھیرے نیند کی آغو ش میں جانے لگتے ہیں ۔ بیچ میں دو مسافر آپس میں ہلکی پھلکی گپ شپ بھی لگا رہے ہوتے ہیں ۔ ان دونوں مسافروں کے مابین تبادلہ خیال ہوتارہتا ہے جس کا اختتام بال بچوں کی شادیوں پر ہوتا ہے۔ان کی گفتگو میں چند افراد اوربھی شامل ہو جاتے ہیں اور سلسلہ گفتگو تقریباً آدھی بس میں اشتراکیت اختیار کر جاتاہے۔اخلاص اور اعتماد کا پودا پروان چڑھنے لگتا ہے جس میں مہندی، شہنائی اور رسموں کی تاثیر کا ذائقہ محسوس ہونے لگتا ہے ۔ وہ دو مسافر جو آغازِ سفر میں محوِ گفتگو تھے وہ آپس میں بیٹے بیٹی کا رشتہ طے کر لیتے ہیں اور بس میں خوشیوں کی خوشبو پھیل جاتی ہے۔سکون کی ہوا چلنے لگتی ہے اور مبارک ہو مبارک کا شور گونجنے لگتا ہے۔دو افراد ایسے ہوتے ہیں جو ان باتوں کو تقویت درہے ہوتے ہیںاور ماحول کو سازگاری کا لبادہ اوڑھا رہے ہوتے ہیں ۔ انھی لوگوں میں سے ایک بندہ منہ میٹھا کرنے کا کہتا ہے ۔ بس کا ماحول اتنا حسین ہو جاتا ہے کہ ہر شخص تسکین محسوس کرتا ہے ۔ بس کے ڈرائیور سے فرمائش کرکے بس میں شادی کے گیت لگوائے جاتے ہیں ۔کسی قصبہ نما شہر میں گاڑی رکو ا کر مٹھائی لی جاتی ہے اور پوری بس میں مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے ۔ کوئی بیس یا پچیس منٹ کے بعد تقریباً تمام سواریاں سو جاتی ہیں اور رشتے کرنے کروانے والے ساری بس کر صفایا کرتے ہیں اور رفو چکر ہو جاتے ہیں ۔
موجودہ دور میں نو سر بازوں نے طریقہ واردات بدل لیا ہے اور مختلف انداز میں اپنی اپنی واردات کا جلوہ دکھاتے ہیں۔کبھی بے نظیر انکم سپورٹ کے نام سے پیاری سی فون کال آتی ہے جس میں نوسرباز انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے جھانسے کو سنہری حروف اور انداز کا لباس پہنا دیتے ہیں، پرکشش  کیش کا لالچ دیتے ہوئے کچھ نہ کچھ ضرور بٹور لیتے ہیں۔ کبھی قرعہ اندازی میں انعام نکلنے کے سبز باغ دکھاتے ہوئے انسان کی سماعت میں گاڑی کی نوید سناتے ہیں ۔فقط گاڑی ہی نہیں ہوتی اس کے ساتھ نقدی کی خوشخبری بھی سنائی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ بے روزگاروں کو نوکری کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ایسے نوسر بازوں کو دنیا کی جس نوکری کا بھی کہہ دو وہ ان کی جیب میں چھپی ہوتی ہے، اس تناظر میں  ایک اچھی خاصی رقم بٹور لی جاتی ہے ۔ لالچی بے روزگارجمع پونجی اٹھالاتا ہے یا زیور بیچ کر نوسرباز کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے۔ نوکری تو خیر کیا لگنی ہوتی ہے اصل رقم اول تو واپس ملتی نہیں اگر مل بھی جائے تو قسطوں میں ملتی ہے ۔ جتنی رقم دی ہوتی ہے اُتنی رقم مزید خرچ ہو جاتی ہے ۔ ایک طرف انسان لٹ چکا ہوتا ہے اور دوسری طرف لوگوں کا مذاقبن جاتا ہے۔افسوس کہ انسان ہی انسان کے جذبات سے کھیلتا ہے،انسان ہی انسان کو لٹ رہا ہے، انسان ہی دوسروں  کی امیدوں کا جنازہ نکالتا ہے۔ سنا تھا کہ سانپ کا ڈسا بچ سکتا ہے مگر انسان کا ڈسا نہیں بچتا۔ 
 ؎   کعبہ کس منہ سے جائو گے غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی 
  غیر ملکی ویزوں کے نام پرکچھ نوسربازوں کی دکانیں چمک چکی ہیں ۔ طے یہ ہوتا ہے کہ اتنی رقم پہلے اور باقی ویزہ لگنے پر ۔ اگر ویزا لگ گیا تو باقی رقم دینی ہو گی اگر نہ لگا تو ایڈوانس میں دی گئی رقم نہ قابل واپسی ہو گی کیونکہ یہ رقم اخراجات کی مد میں ہے۔ اسی تناظر میں مختلف لوگوں سے رقم لی جاتی جو ایک اچھی خاصی رقم بن جاتی ہے۔ بے شک اسی سے انسان خوو بیرون ملک کا چکر لگا آئے۔بہت پیارے اور غمگین ٹیکسٹ ملتے ہیں کہ میں فلاں ہوں اور ہسپتال میں ہوں مجھے ایمرجنسی میں اتنے کا لوڈ بھیج دیں اور یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے اور خزانہ بھرتا رہتا ہے۔کچھ صاحب بورڈ کے کنٹرولر امتحانات سے تعلقات کا عکس دکھا کر مختلف طالب علموں سے اچھے مارکس لگوانے یا فرسٹ گریڈ کی ڈگری دلوانے کی مد میں لے جاتے ہیں اور ان کو خود کمپیوٹر سے نکال کر ایک صفحہ تھما دیا جاتا ہے جو رزلٹ کارڈ کہلاتا ہے ۔ بے چارے کنٹرولر امتحانات کے فرشتوں کا بھی اس معاملے سے کوئی لین دین نہیں ہوتا۔
 ؎ ہوس نے کر دیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو  اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جا