افضل شاہد
رات گہری تھی، فیصلے خاموش تھے۔اسلام آباد کی فضاء میں عجیب سی سنسناہٹ تھی۔کاغذوں پر دستخط ہو رہے تھے، فون لائنیں مصروف تھیں، اور خطے کی قسمت بند کمروں میں لکھی جا رہی تھی۔دنیا کو بتایا گیا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر نیوٹرل ہے۔
مگر جو لوگ طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، وہ جانتے تھے کہ یہ خاموشی…طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔ریاض اور ابوظہبی—دونوں جانتے تھیکہ یمن میں کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلیایک سوال کا جواب ضروری ہے:پاکستان کس طرف کھڑا ہے؟یو اے ای کے شیخوں نے جلدی میں ایک فیصلہ کیا۔ہنگامی دورہ، مختصر مسکراہٹیں، اور میز پر رکھا ایک جملہ:’’ہمیں اپنے تین ارب ڈالر واپس چاہئیں۔’’
انہیں لگا کہ پاکستان گھبرا جائے گا۔انہیں لگا کہ پرانے دن لوٹ آئیں گے ‘ترلے، تاخیر، کمزوری۔مگر وہ یہ بھول گئے تھے یہ نیا پاکستان ہے۔پاکستان کو پہلے ہی معلوم تھاکہ مانگ آنے والی ہے۔اور جب مانگ آئی…تو جواب بھی تیار تھا۔ایک ارب ڈالر کے شیئرز میز پر رکھے گئے۔بغیر آواز، بغیر شور۔اور باقی دو ارب کا وعدہ ایسے اعتماد سے کیا گیا‘جیسے یہ رقم نہیں…پیغام ہو۔اسی لمحے خطے میں ایک اور حرکت ہوئی۔میزائل فضاء میں گونجا،اور پیغام واضح تھا:طاقت اب بھی بولتی ہے۔ابوظہبی میں خاموشی چھا گئی۔کیونکہ وہاں سب سمجھ چکے تھے کہ اگر سعودی عرب نے پاکستان کو بلا لیا…تو کہانی کسی اور موڑ پر جا سکتی ہے۔یہی وہ لمحہ تھا
جہاں پسپائی نے عقل مندی کا لبادہ اوڑھا۔دنیا نے کہا:’’پاکستان نے ثالثی کی ہے۔’’اور پاکستان مسکرایا…کیونکہ اصل طاقتنظر آنے میں نہیںمحسوس ہونے میں ہوتی ہے۔آج پاکستان غریب ہو سکتا ہے،مگر کمزور نہیں۔آج فیصلے واشنگٹن یا دہلی میں نہیں،اسلام آباد کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔یہ مقام تحفے میں نہیں ملا۔یہ مقامسرحدوں پر کھڑے ہو کر،اندرونی سازشوں کو کچل کر،اور دشمن کی برسوں کی انویسٹمنٹ
راکھ بنا کر حاصل کیا گیا ہے۔اندھیرے میں کھیلی جانے والی یہ گیم
اب سب کو سمجھ آ چکی ہے:پاکستان کو نظرانداز کرنے کی قیمت بہت بھاری ہے۔
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…
بس کردار بدل گئے ہیں۔
ٓٓٓآگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔۔یہ 2021 والا پاکستان نہیں یہ 2026 والا ،ایٹمی طاقت والا ،ایک جیتا ہوا ملک جس سے خطے کے ساتے لوگ پوچھ کر چلتے ییں۔۔جسے افغانستان جیے جاھل اور انڈیا کا بنیا نہیں سمجھتا باقی پوری دنیا سمجھتی ہیے۔۔اللہ جسے چاھے عزت عطا کرے جسے چاھے ذلت۔پاکستانیوں کے لئیے فخریہ لمحہء ۔۔سر اٹھا کے جیو۔