ندیم ملک
جمعہ کا دن اسلامی تعلیمات میں خصوصی اہمیت، عظمت اور برکت کا حامل ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے عبادت، ذکرِ الٰہی، دعا، توبہ و استغفار اور اجتماعی اخوت و اتحاد کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جمعہ کے نام سے ایک مستقل سورت نازل فرمائی اور اہلِ ایمان کو اس دن نمازِ جمعہ کے لیے خصوصی طور پر متوجہ ہونے کا حکم دیا۔ رسول اللہ نے بھی متعدد احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کی فضیلت، اس کے آداب، دعا کی قبولیت کی خصوصی گھڑی اور نمازِ جمعہ کی اہمیت بیان فرمائی ہے
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی تعلیمات میں عبادت کے ساتھ اخلاق، معاملات، معاشرت اور حقوق العباد کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جمعہ کا دن ان تمام پہلوؤں کو یکجا کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اس دن مسلمان اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں، خطبہ سنتے ہیں، نماز ادا کرتے ہیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کی اصلاح کا عزم کرتے ہیں
قرآنِ مجید میں جمعہ کی اہمیت
اللہ تعالیٰ سورہ الجمعہ میں ارشاد فرماتا ہے‘ترجمہ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو واضح ہدایت فرمائی ہے کہ جمعہ کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو کاروبار اور خرید و فروخت چھوڑ کر اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ اس حکم سے نمازِ جمعہ کی اہمیت اور مسلمانوں کی زندگی میں اس کے مقام کا اندازہ ہوتا ہے
اسلام حلال روزی کمانے اور کاروبار کرنے سے منع نہیں کرتا، بلکہ جائز ذرائع سے رزق حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تاہم جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مقررہ وقت آ جائے تو دنیاوی مصروفیات کو عبادت کے تابع رکھنا ضروری ہے۔ ایک مسلمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ دنیا کے معاملات بھی ذمہ داری سے انجام دے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کرے
اللہ تعالیٰ اسی سورت کی اگلی آیت میں ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ: پھر جب نماز ادا ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ، اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، تاکہ تم فلاح پاؤ
(سورہ الجمعہ: 10)
یہ آیت اسلامی نظامِ زندگی میں عبادت اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان توازن کی تعلیم دیتی ہے۔ نماز کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں حاضر ہونا اور اس کے بعد حلال روزی کی تلاش میں مصروف ہونا دونوں اہم ہیں۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے کثرت سے اپنا ذکر کرنے کی ہدایت فرمائی ہے، تاکہ انسان دنیاوی مصروفیات میں اپنے رب کو فراموش نہ کرے۔
جمعہ ہفتے کا افضل دن ہے
رسول اللہ نے جمعہ کے دن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے، ان میں سب سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے (صحیح مسلم: 854)
اس حدیث سے جمعہ کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بعض دنوں کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے اور جمعہ انہی افضل دنوں میں شامل ہے۔ اس دن عبادات کا اہتمام، اللہ تعالیٰ کا ذکر اور نیک اعمال انسان کو روحانی طور پر مضبوط کرتے ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق جمعہ کے دن ہوئی، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن وہاں سے زمین پر اتارا گیا۔ قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہوگی، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں بیان ہوا ہے۔
ان واقعات میں انسان کے لیے گہرا سبق موجود ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق انسان کی دنیاوی زندگی کے آغاز کی یاد دلاتی ہے، جبکہ قیامت کا جمعہ کے دن قائم ہونا انسان کو آخرت کی جواب دہی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور ہر انسان کو ایک دن اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ لہٰذا جمعہ کا دن اپنی زندگی کا جائزہ لینے، غلطیوں پر نادم ہونے اور نیکی کی راہ اختیار کرنے کا بہترین موقع ہے
جمعہ کی ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دعا قبول فرماتا ہیحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے جمعہ کے دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اس وقت اللہ تعالیٰ سے کوئی بھلائی مانگے تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے۔(صحیح بخاری: 935؛ صحیح مسلم: 852)
اس مبارک گھڑی کے تعین کے بارے میں اہلِ علم کی مختلف آرا ہیں۔ ایک معروف رائے کے مطابق یہ عصر کے بعد غروبِ آفتاب سے پہلے کا وقت ہے، جبکہ دوسری رائے کے مطابق یہ امام کے منبر پر بیٹھنے سے نمازِ جمعہ کے اختتام تک کا وقت ہے۔اس لیے بہتر ہے کہ مسلمان پورے جمعہ کے دن دعا کا اہتمام کرے، بالخصوص عصر کے بعد کے وقت کو غنیمت جانے۔ اپنے گناہوں کی معافی، والدین کی بخشش، اہلِ خانہ کی سلامتی، رزقِ حلال، صحت و عافیت، امتِ مسلمہ کی بہتری اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے دعا کرے
دعا بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا اہم ذریعہ ہے۔ انسان جب اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ اپنی محتاجی اور اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کا اقرار کرتا ہے۔ دعا کرتے وقت اخلاص، حلال رزق، اللہ تعالیٰ پر بھروسا اور صبر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ بھی یاد رہے کہ دعا کی قبولیت ہمیشہ اسی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی جس کی انسان خواہش کرتا ہے؛ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے
نمازِ جمعہ اسلام کی اہم اجتماعی عبادات میں سے ہے۔ مقررہ شرائط کے ساتھ بالغ، مقیم اور مکلف مسلمان مردوں پر یہ فرض ہے۔ خواتین، مسافروں اور بعض معذور افراد کے احکام مختلف ہیں، جن کی تفصیل فقہی کتب میں بیان کی گئی ہے
جمعہ کی نماز مسلمانوں کو ہفتے میں ایک مرتبہ اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جمع کرتی ہے۔ اس موقع پر امام خطبہ دیتا ہے، جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں تقویٰ، اخلاق، معاشرت، حقوق العباد اور دینی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے
رسول اللہ ? نے نمازِ جمعہ ترک کرنے کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:لوگوں کو جمعہ کی نمازیں چھوڑنے سے باز آ جانا چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہو جائیں گے (صحیح مسلم: 865)
اس حدیث میں بلاعذر جمعہ چھوڑنے کی سنگینی بیان کی گئی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی ملازمت، کاروبار اور دیگر مصروفیات کو اس طرح ترتیب دے کہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں غفلت نہ ہو۔
ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا کہ جو شخص سستی اور بے پروائی کی وجہ سے تین جمعے چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے (سنن ابی داؤد: 1052؛ جامع ترمذی: 500)
یہ وعید نمازِ جمعہ کو معمولی سمجھنے اور بلاعذر مسلسل ترک کرنے کے بارے میں ہے۔ اگر کسی مسلمان سے کوتاہی ہوئی ہو تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرے، آئندہ نمازِ جمعہ کی پابندی کا عزم کرے اور اپنی زندگی کو دینی احکام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
اسلام نے جمعہ کے دن صفائی، پاکیزگی اور اچھے لباس کا خصوصی اہتمام کرنے کی تعلیم دی ہے۔ رسول اللہ ? نے جمعہ کے لیے غسل کرنے کی تاکید فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے(صحیح بخاری: 877؛ صحیح مسلم: 844)
جمعہ کے غسل کے شرعی حکم کی تفصیلات میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ جمہور فقہاء اسے سنتِ مؤکدہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اہلِ علم نے اس کے وجوب کا قول بھی اختیار کیا ہے غسل کے ساتھ صاف لباس پہننا، جسمانی صفائی کا خیال رکھنا اور مسجد میں دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بننا بھی ضروری ہے۔ اسلام صفائی کو پسند کرتا ہے اور اجتماعی عبادت کے مواقع پر اس کا اہتمام مزید اہم ہو جاتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ظاہری صفائی کے ساتھ اپنے دل اور کردار کی اصلاح کی بھی کوشش کرے۔
جمعہ کے لیے جلد مسجد پہنچنے کی فضیلت
جمعہ کی نماز کے لیے جلد مسجد پہنچنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔ اس سے انسان کو ذکر و عبادت، تلاوت اور خطبہ سننے کا موقع ملتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہو کر آنے والوں کے نام ان کی آمد کی ترتیب سے لکھتے ہیں۔ جب امام خطبے کے لیے آتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کرکے ذکر سننے لگتے ہیں(صحیح بخاری: 929؛ صحیح مسلم: 850)
ایک دوسری روایت میں جمعہ کے لیے جلد آنے والوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اونٹ، گائے، مینڈھے، مرغی اور انڈے کی مثالیں دی گئی ہیں۔ اس سے جلد آنے کی فضیلت اور اس کے اجر کی اہمیت واضح ہوتی ہے(صحیح بخاری: 881؛ صحیح مسلم: 850)
اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ جمعہ کے دن اپنی مصروفیات کو پہلے سے ترتیب دے، غسل اور تیاری کے بعد مناسب وقت پر مسجد پہنچے اور خطبہ شروع ہونے سے پہلے عبادت میں مشغول ہو۔ آخری وقت میں پہنچنے کی عادت انسان کو بہت سی روحانی برکتوں سے محروم کر سکتی ہے۔
جمعہ کے دن سورہ الکہف کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں روایات منقول ہیں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک روایت میں جمعہ کے دن سورہ الکہف پڑھنے والے کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور ہونے کا ذکر آیا ہے (السنن الکبریٰ للبیہقی؛ المستدرک للحاکم)اس روایت کی اسنادی حیثیت کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں گفتگو ملتی ہے، تاہم متعدد علماء نے جمعہ کے دن سورہ الکہف کی تلاوت کو مستحب قرار دیا ہے سورہ الکہف میں اصحابِ کہف، دو باغوں والے شخص، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام، اور ذوالقرنین کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں ایمان کی حفاظت، مال و دولت کی آزمائش، علم کی حدود، صبر، حکمت اور اقتدار کے درست استعمال جیسے اہم اسباق موجود ہیں قرآنِ مجید کی تلاوت صرف الفاظ پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پیغام کو سمجھنے اور زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ جمعہ کے دن سورہ الکہف کی تلاوت کرے اور اس کے مضامین پر غور کرے۔ یہ مستحب عمل ہے، فرض نہیں
رسول اللہ سے محبت ایمان کا اہم تقاضا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو رسول اللہ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔
(سور? الاحزاب: 56)
رسول اللہ نے جمعہ کے دن اپنے اوپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو(سنن ابی داؤد: 1047؛ سنن نسائی: 1374)
جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت سے مسلمان کے دل میں رسول اللہ کی محبت اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے کا جذبہ بڑھتا ہے۔ درودِ
ابراہیمی یا درود کے دوسرے ثابت شدہ صیغے پڑھے جا سکتے ہیں۔ اس عمل کے ساتھ سیرتِ نبوی کا مطالعہ اور سنت کی پیروی بھی ضروری ہے، کیونکہ حقیقی محبت کا تقاضا اطاعت اور اتباع ہے۔
جمعہ کی فضیلت انفرادی عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے معاشرتی فوائد بھی بہت زیادہ ہیں۔ یہ دن مسلمانوں میں اتحاد و اخوت کو فروغ دیتا ہے۔ امیر و غریب، حاکم و محکوم اور مختلف معاشرتی طبقات کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اس سے مساوات، بھائی چارے اور اجتماعی وحدت کا درس ملتا ہے
خطبہ جمعہ کے ذریعے لوگوں کو قرآن و سنت، اخلاق، والدین کے حقوق، معاشرتی ذمہ داریوں اور برائیوں سے بچنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اگر مساجد میں ان موضوعات پر مؤثر انداز میں رہنمائی کی جائے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
جمعہ توبہ و استغفار اور اصلاحِ نفس کا بھی بہترین موقع ہے۔ مسلمان اپنے گزشتہ اعمال کا جائزہ لے، غلطیوں پر نادم ہو، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ بہتر زندگی گزارنے کا عزم کرے۔ اگر کسی کا حق دبایا ہو تو اسے واپس کرے، کسی کو تکلیف پہنچائی ہو تو معافی مانگے اور اپنے معاملات درست کریاسلام صدقہ و خیرات، یتیموں کی کفالت، غریبوں کی مدد اور ضرورت مندوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ جمعہ کے اجتماع کے ذریعے معاشرے میں ان اقدار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ عبادت کے ساتھ خدمتِ خلق اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی دینی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔