اودھم سنگھ نگر، دہرہ دون، نینی تال اور ہلدوانی میں129مدارس میں تدریس کا سلسلہ فوری طور پر معطل ،7مدارس بغیر کسی پیشگی نوٹس کے سیل کر دیے گئے
مدارس کی بندش کے پیچھے اصل مقصد مودی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے،کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
دہرا دون(آئی این پی ) بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مودی حکومت کے تحت 170سے زائد مسلم مدارس کو غیر قانونی قرار دے کر بند کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ۔ ان میں سے 129مدارس میں تدریس کا سلسلہ فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ہزاروں طلبہ تعلیم سے محروم ہو گئے ۔ بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق یہ کارروائی خاص طور پر اودھم سنگھ نگر، دہرہ دون، نینی تال اور ہلدوانی جیسے علاقوں میں کی گئی ہے۔ ہلدوانی کے بنبھول پورہ علاقے میں 7مدارس بغیر کسی پیشگی نوٹس کے سیل کر دیے گئے، جس سے مقامی مسلم برادری میں شدید خوف اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ریاستی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ مدارس غیر رجسٹرڈ اورشدت پسندی کے مراکز ہیں، جبکہ مسلم رہنمائوں اور سول رائٹس تنظیموں نے اس اقدام کو بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ معروف عالم دین مفتی شمون قاسمی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ادارہ غیر قانونی ہے تو کارروائی ضرور ہو، مگر مدارس کو نشانہ بنا کر دینی تعلیم کو دہشتگردی سے جوڑنا انتہائی افسوسناک ہے۔کانگریس رہنمائوں اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدارس کی بندش کے پیچھے اصل مقصد مودی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔