اسلام آباد (آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کے نصاب میں تبدیلی کے معاملے پر سماعت و گویائی سے محروم طلبہ نے وزیرِ تعلیم سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہم جماعت کے نصاب میں ترجمہ قرآن شامل کرنے اور مطالعہ پاکستان کو خارج کرنے کے فیصلے سے خصوصی بچوں پر اضافی تعلیمی بوجھ پڑ رہا ہے، جو ان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔سماعت و گویائی سے محروم طلبہ کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے لیے تعلیمی نصاب آسان اور قابلِ فہم ہونا ضروری ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے تعلیم حاصل کر
سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصی طلبہ کے لیے ترجمہ قرآن مجید کا مواد دو ماہ میں 250 آیات کی تیاری کے لیے بہت مشکل ہے، جب کہ سال بھر مطالعہ پاکستان پڑھنے والے طلبہ بھی امتحانات کے حوالے سے پریشان ہیں۔انہوں نے وزیرِ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ مطالعہ پاکستان کا پرچہ اس سال کے امتحانات میں لیا جائے اور ترجمہ قرآن مجید کو 2026 کے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ خصوصی بچوں کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں