ابو غریب اور گوانتانامو بے جیلوں میں واقعات اور شام و لیبیا میں امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا
اسلام آباد(آئی این پی)امریکہ، چین و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے 25 سال مکمل ہونے پر دنیا کو طویل جنگوں، فوجی مداخلتوں اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑ کر دیکھنے کے تباہ کن نتائج سے سبق سیکھنا چاہیے۔نائن الیون کے متاثرین، ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں میں استعمال ہونے والے طیاروں کے مسافروں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 11 ستمبر 2001 کا ہولناک واقعہ انہیں آج بھی یاد ہے، جب وہ واشنگٹن ڈی سی میں تعینات تھے۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد جاں بحق ہوئے جن کا تعلق تقریباً 90 ممالک سے تھا، جبکہ اس سانحے میں پاکستان کے شہری بھی جاں بحق ہوئے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ نائن الیون کے فوری بعد امریکہ کے ساتھ عالمی سطح پر غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا اور نیٹو نے آرٹیکل 5 نافذ کیا، جس کے تحت ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق اس وقت پیدا ہونے والی خیرسگالی بتدریج کم ہوتی گئی جب دہشت گردی کے خلاف جنگ افغانستان سے نکل کر عراق اور دیگر محاذوں تک پھیل گئی ۔انہوں نے کہا کہ ابو غریب اور گوانتانامو بے جیلوں میں پیش آنے والے واقعات اور بعد ازاں شام و لیبیا میں امریکی فوجی کارروائیوں نے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔