اسرائیل کو کٹہرے میں لانا چاہیےعرب ٹاسک فورس بنائی جائےشہباز شریف
اسرائیل نے ثالث ہونے کے باوجود قطر پر حملہ کر کے خودمختاری کی خلاف ورزی کی اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کیا‘، ہم قطر کے حکام اور قطری بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں:وزیراعظم
اسرائیل سمجھتاہے اسے کوئی نہیں پوچھ سکتا‘نسل کشی،قبضہ،بھوک اور تشدد اسرائیل کی پالیسی ہے، کھلی جارحیت اور جرائم پر صہیونی حکومت کو رعایت نہیں دی جاسکتی:ترک صدر رجب طیب اردوان
اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا:مصری صدر‘ صہیونی جارحیت روکنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے:فلسطینی صدر‘عرب اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب
دوحہ(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے اسرائیل نے ثالث ہونے کے باوجود قطر پر حملہ کر کے خومختاری کی خلاف ورزی کی اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کیا۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ عرب اتحاد ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل نے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، پاکستان دوحہ پر حملے کی کھلی مذمت کرتا ہے۔ یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے کیا گیا، ہم قطر کے حکام اور اپنے قطری بہن بھائیوں، کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران امن کی بات کرنے اور ثالث کا کردار ادا کرنے کے باوجود بھی اسرائیل نے حملہ کیا۔ غزہ میں خون کی ندیاں بہہ کرہی ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر دس سالہ فلسطینی بچے کاذکر کیا جس نے خوراک کیلئک کئی کلومیٹر پیدل سفر کیا اور پھر اْسے اسرائیلی فوج نے شہید کردیا تھا۔ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کررہا ہے، اس بربریت کو اب فوری طور پر رکنا چاہیے، اسرائیل کو انسانیت کیخلاف جنگی جرائم پر احتساب کے کٹہرے میں لانا چاہیے، بربریت کو روکنے کیلیے عرب ٹاسک فورس تشکیل دی جائے اور اسرائیل کے خلاف فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی کروائی جائے، فلسطینیوں کی رہائی اور مغیوں کی بازیابی کیلیے کاوشیں کی جائیں۔ غزہ کا معاملہ دو ریاستی حل سے ہی ممکن ہے، فلسطین ایک علیحدہ ریاست ہو جس کا دارالحکومت القدس ہو اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت کو سب مسترد اور اس کی مذمت کرتے ہیں، اگر ہم نے اتحاد نہیں کیا تو اسرائیل انسانیت کیخلاف اسی طرح اقدامات کرتا رہے گا۔امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے عرب اسلامی سربراہی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں حماس کے مذاکرات کاروں پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم میں تمام حدیں پار کرلیں۔انہوں نے اسرائیل کی عالمی قوانین کی سنگین پامالی لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو بند اور مشرق مسئلہ فلسطین کے فوری حل پر زور دیا۔امیرِ قطر اسرائیلی حملے کو مذاکراتی عمل کو سبوتاڑکرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا اس سے امن اور جنگ بندی کی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔انھوں نے گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا اور یرغمالیوں کی پْرامن رہائی کے تمام اسرائیلی دعوئوں کو جھوٹا قرار دیا۔اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے امیرِ قطر نے کہا کہ اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم میں تمام حدیں پار کردی ہیں۔انہوںنے عالمی برادری سے اپیل کی کہ غزہ میں سنگین جنگی جرائم پر اسرائیل سے بازپرس کی جانی چاہیے اور سخت ایکشن لیا جائے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ قطرکے ساتھ مکمل یکجہتی کااظہارکرتے ہیں، مسلمان ملکوں کی طرف سے قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی قابل ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم مشرق وسطیٰ اورعالمی امن کیلئے شدید خطرہ ہیں، اسرائیل سمجھتاہے کہ اسے کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ مسلمان ملکوں کو اپنی صفوں میں اتحاد کے ذریعے آگے بڑھنا ہے، آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے ہمیں باہمی تعاون بڑھانا ہوگا۔رجب طیب اردوان نے کہا او آئی سی فریم ورک کے تحت اسرائیل کوعالمی عدالت انصاف میں لانے کیلئے حکمت عمل وضع کی جائے۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہم اجلاس طلب کرنے پر امیر قطرکا مشکورہوں، اسرائیل کے جارحانہ اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے تمام ریڈلائنزکراس کرلی ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا۔مصری صدر نے کہا کہ فلسطین میں انسانیت سسک رہی ہے، انسانیت کے خلاف جرائم پر اسرائیل کو کوئی استثنی نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل دانستہ طور پر خطے کا امن تباہ کرنے کے درپے ہے، جبر اور تشدد سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔فلسطین کے صدرمحمود عباس نے عرب اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم تمام حدیں پارکرچکے ہیں، صہیونی جارحیت روکنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنا اور فوری امدادکی فراہمی ناگزیر ہے